المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ باب: عیدین (دونوں عیدوں) کی نماز کا بیان۔
وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ حَنَشٍ ، قَالَ : قِيلَ لِعَلِيٍّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : إِنَّ نَاسًا لَا يَسْتَطِيعُونَ الْخُرُوجَ ، مِنْهُمْ مَنْ بِهِ عِلَّةٌ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْعُدُ عَلَيْهِ الْمَسْجِدُ ، فَقَالَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - : صَلُّوا هَا هُنَا وَفِي الْمَسْجِدِ ، وَصَلُّوا أَرْبَعًا : رَكْعَتَيْنِ لِلسُّنَّةِ ، وَرَكْعَتَيْنِ لِلْخُرُوجِ .سیدنا حنش رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا گیا کہ کچھ لوگ (نمازِ عید کے لیے) باہر نکلنے کی استطاعت نہیں رکھتے، ان میں سے بعض بیمار ہیں اور بعض کے لیے مسجد یا عید گاہ بہت دور ہے، تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”تم یہاں اپنے مقامات پر بھی نماز ادا کرو اور مسجد میں بھی، اور مجموعی طور پر چار رکعتیں پڑھو: دو رکعتیں سنت کے طور پر اور دو رکعتیں عید کے لیے نکلنے کے عوض۔“
اس اثر کو امام احمد بن منیع نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی لیث بن ابی سلیم کو ائمہ جرح و تعدیل نے ان کے حافظے کی خرابی کی بنا پر ضعیف قرار دیا ہے، تاہم یہ فقہی اثر دیگر شواہد کی بنا پر علمی حلقوں میں معروف ہے کہ جو شخص عید کی نماز سے رہ جائے وہ چار رکعتیں ادا کرے۔