❮
❯
حدیث نمبر: 755
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - كَانَ يَغْدُو إِلَى الْعِيدِ مِنَ الْمَسْجِدِ يَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى يَأْتِيَ الْمُصَلَّى ، وَيُكَبِّرُ حَتَّى يَأْتِيَ الْإِمَامُ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”وہ عید کے دن مسجد سے عید گاہ کی طرف (نماز کے لیے) روانہ ہوتے تو بلند آواز سے تکبیریں بلند کرتے یہاں تک کہ عید گاہ پہنچ جاتے، اور وہ اس وقت تک برابر تکبیریں کہتے رہتے جب تک کہ امام (نماز کے لیے) تشریف نہ لے آتا۔“
اس اثر کی سند صحیح ہے، اسے امام دارقطنی نے اپنی ”السنن“ میں اور امام بیہقی نے ”السنن الکبریٰ“ میں روایت کیا ہے؛ یہ روایت عیدین کے موقع پر راستہ میں اور امام کے آنے تک بلند آواز سے تکبیرات کہنے کے مسنون ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / أبواب الجمعة / حدیث: 755
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف صحیح »
«أخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1431، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1109، 1110، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 6213، 6214، 6215، والدارقطني فى «سننه» برقم: 1712، 1714، 1716، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 755، وأخرجه الطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: بدون ترقيم، بدون ترقيم»