المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ باب: عیدین (دونوں عیدوں) کی نماز کا بیان۔
[ قَالَ] إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَنْبَأَنِي قُرَّةُ بْنُ أَبِي الصَّهْبَاءِ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ بَدْرٍ ، قَالَ : خَرَجَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - فِي يَوْمِ عِيدٍ ، فَرَأَى نَاسًا يُصَلُّونَ ، فَقَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، قَدْ شَهِدْنَا نَبِيَّ اللهِ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مِثْلِ هَذَا الْيَوْمِ ، فَلَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يُصَلِّي قَبْلَ الْعِيدِ ، أَوْ قَبْلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - .
فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، أَلَا تَنْهَى أَنْ يُصَلُّوا قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ ؟ فَقَالَ : لَا أُرِيدُ أَنْ أَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى ، وَلَكِنْ نُحَدِّثُهُمْ بِمَا شَهِدْنَا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ كَمَا [قَالَ] .
قُلْتُ : وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ [ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ الْجُعْفِيِّ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ : سَمِعْتُ الرَّبِيعَ بْنَ سَعِيدٍ الْجُعْفِيَّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ سَرِيعٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ بِهِ ] .علاء بن بدر سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ عید کے دن (نماز کے لیے) تشریف لائے تو انہوں نے کچھ لوگوں کو (نفل) نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، آپ رضی اللہ عنہ نے (انہیں دیکھ کر) فرمایا: ”اے لوگو! ہم اللہ کے نبی ﷺ کے ہمراہ اس جیسے (عید کے) دن میں حاضر رہے ہیں اور (اس وقت) کوئی بھی شخص عید کی نماز سے پہلے، یا نبی کریم ﷺ کے (تشریف لانے سے) قبل نماز نہیں پڑھتا تھا۔“ اس پر ایک شخص نے عرض کیا: ”اے امیر المؤمنین! کیا آپ ان لوگوں کو امام کے برآمد ہونے سے پہلے نماز پڑھنے سے منع نہیں فرمائیں گے؟“ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”میں کسی ایسے بندے کو (عبادت سے) روکنا نہیں چاہتا جب وہ نماز پڑھ رہا ہو، البتہ ہم انہیں وہی بات بتاتے ہیں جس کا مشاہدہ ہم نے اللہ کے نبی ﷺ کی معیت میں کیا تھا۔“ (یا جس طرح بھی آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا)۔
میں (مؤلف) کہتا ہوں: اسے امام بزار نے ابراہیم بن محمد بن نعمان جعفی ابواسحاق کے طریق سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ربیع بن سعید جعفی سے سنا، انہوں نے کہا کہ ہمیں عمرو بن حریث کے آزاد کردہ غلام ولید بن سریع نے اسی سند و متن کے ساتھ یہ حدیث بیان کی۔