❮
❯
حدیث نمبر: 740
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فِي سَفَرٍ ، فَغَابَتِ الشَّمْسُ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا أَبَا الْعَبَّاسِ ، الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ : إِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى مَرَّ الظَّهْرَانِ فَنَزَلَ ، وَإِنَّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حَيْثُ قِيلَ لَهُ : الصَّلَاةَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ فَرْسَخَيْنِ .
ترجمہ

ابومعبد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ہمراہ ایک سفر میں تھے، پس جب سورج غروب ہو گیا تو ان سے عرض کیا گیا: ”اے ابو عباس! نماز (کا وقت ہو گیا ہے)؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”ہم مسافر لوگ ہیں (اور ہمیں سفر میں نمازیں جمع کرنے کی رخصت حاصل ہے)۔“ پھر وہ مسلسل سفر کرتے رہے یہاں تک کہ مقامِ مر الظہران پر پہنچ کر قیام فرمایا، اور جس جگہ سورج غروب ہوتے وقت ان سے نماز کے متعلق کہا گیا تھا اور جہاں انہوں نے آخرِ کار قیام کیا، ان کے درمیان دو فرسخ (تقریباً گیارہ کلومیٹر) کا فاصلہ تھا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے امام نسائی نے السنن الکبریٰ (حدیث: 604) میں روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / أبواب الجمعة / حدیث: 740
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف، موقوف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :موقوف صحيح
اس کا مرفوع حکم بھی ثابت ہے ، کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ عمل عین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر میں مغرب و عشاء کو جمع کرنے (جمع تأخیر) کے طریقہ کار کے مطابق ہے ۔
شواہد : صحیح مسلم (حدیث : 705) میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً اور موقوفاً جمع بین الصلاتین فی السفر کی متعدد روایات صحیح سند کے ساتھ موجود ہیں ۔ »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»