المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ وَمَا جَاءَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ باب: سفر میں نماز قصر کرنے اور دو نمازیں جمع کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - فِي سَفَرٍ ، فَغَابَتِ الشَّمْسُ ، فَقِيلَ لَهُ : يَا أَبَا الْعَبَّاسِ ، الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ : إِنَّا قَوْمٌ سَفْرٌ ، ثُمَّ سَارَ حَتَّى أَتَى مَرَّ الظَّهْرَانِ فَنَزَلَ ، وَإِنَّ بَيْنَهُ وَبَيْنَ حَيْثُ قِيلَ لَهُ : الصَّلَاةَ حِينَ غَابَتِ الشَّمْسُ فَرْسَخَيْنِ .ابومعبد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ہمراہ ایک سفر میں تھے، پس جب سورج غروب ہو گیا تو ان سے عرض کیا گیا: ”اے ابو عباس! نماز (کا وقت ہو گیا ہے)؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”ہم مسافر لوگ ہیں (اور ہمیں سفر میں نمازیں جمع کرنے کی رخصت حاصل ہے)۔“ پھر وہ مسلسل سفر کرتے رہے یہاں تک کہ مقامِ مر الظہران پر پہنچ کر قیام فرمایا، اور جس جگہ سورج غروب ہوتے وقت ان سے نماز کے متعلق کہا گیا تھا اور جہاں انہوں نے آخرِ کار قیام کیا، ان کے درمیان دو فرسخ (تقریباً گیارہ کلومیٹر) کا فاصلہ تھا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اسے امام نسائی نے السنن الکبریٰ (حدیث: 604) میں روایت کیا ہے۔