المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ وَمَا جَاءَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ باب: سفر میں نماز قصر کرنے اور دو نمازیں جمع کرنے کا بیان۔
[ إِسْحَاقُ ] : قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ : أَحَدَّثَكُمْ سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ ، يَقُولُ : كَانَتِ الصَّلَاةُ فُرِضَتْ سَجْدَتَيْنِ .. [سَجْدَتَيْنِ] ، الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ ، فَكَانُوا يُصَلُّونَ بَعْدَ الظُّهْرِ رَكْعَتَيْنِ ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ ، فَكُتِبَ عَلَيْهِمُ الظُّهْرُ أَرْبَعًا ، وَالْعَصْرُ أَرْبَعًا ، فَتَرَكُوا ذَاكَ حِينَ كُتِبَ عَلَيْهِمْ ، وَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ ، وَكَانَتِ الْحَضَرُ أَرْبَعًا ؟ فَأَقَرَّ بِهِ ، وَقَالَ : نَعَمْ .
هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ .اسحاق سے روایت ہے کہ میں نے ابو اسامہ سے دریافت کیا کہ کیا آپ سے سعد بن سعید انصاری نے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”نمازِ ظہر اور نمازِ عصر (ابتدا میں) دو دو رکعتیں ہی فرض کی گئی تھیں، پس لوگ ظہر کے بعد بھی دو رکعتیں پڑھا کرتے تھے اور عصر کے بعد بھی دو رکعتیں ادا کیا کرتے تھے، پھر ان پر ظہر کی چار اور عصر کی بھی چار رکعتیں فرض کر دی گئیں، چنانچہ جب یہ چار رکعتیں فرض ہوئیں تو انہوں نے وہ (پہلی والی اضافی رکعتیں) پڑھنا چھوڑ دیں، اور سفر کی نماز (اپنی اصل حالت یعنی دو رکعتوں پر ہی) برقرار رکھی گئی جبکہ حضر یعنی مقیم ہونے کی حالت کی نماز چار رکعتیں مقرر کر دی گئی؟“ اس پر ابو اسامہ نے اس بات کا اقرار کیا اور فرمایا: ”جی ہاں، (بالکل ایسا ہی ہے)۔“
یہ حدیث حسن ہے۔