المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الزَّجْرِ عَنْ تَخَطِّي رِقَابِ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ باب: جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کی ممانعت کا بیان۔
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْوَلِيدِ الشَّنِّيُّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، - رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا - قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : يَلْهُو أَحَدُكُمْ ، حَتَّى إِذَا كَادَتِ الْجُمُعَةُ تَفُوتُهُ جَاءَ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ يُؤْذِيهِمْ .
فَقَالَ : مَا فَعَلْتُ يَا نَبِيَّ اللهِ ، وَلَكِنْ كُنْتُ رَاقِدًا ، ثُمَّ اسْتَيْقَظْتُ ، فَقُمْتُ وَتَوَضَّأْتُ ، ثُمَّ أَقْبَلْتُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَوَيَوْمُ وُضُوءٍ هَذَا ؟!! .
رِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا عُمَرَ فَفِيهِ مَقَالٌ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص اس وقت مسجد میں داخل ہوا جب نبی کریم ﷺ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، تو آپ ﷺ نے (اس کی تاخیر پر) ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص غفلت اور لاپروائی میں مگن رہتا ہے، یہاں تک کہ جب جمعہ کی نماز فوت ہونے کے قریب ہو جاتی ہے تو وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آتا ہے اور انہیں اذیت دیتا ہے۔“ اس شخص نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! میں نے (قصداً) ایسا نہیں کیا بلکہ میں سو گیا تھا، پھر جب بیدار ہوا تو اٹھ کر وضو کیا اور اب حاضر ہوا ہوں، اس پر نبی کریم ﷺ نے (تعجب اور تنبیہ کے طور پر) ارشاد فرمایا: ”کیا آج کا دن محض وضو کرنے کا ہے؟!!“
اس کے راوی ثقہ ہیں، سوائے عمر کے، کیونکہ ان کی ثقاہت میں کلام پایا جاتا ہے۔