المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْإِنْصَاتِ لِلْخُطْبَةِ باب: خطبہ خاموشی سے سننے کا بیان۔
قَالَ [ إِسْحَاقُ ] : أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ - مِنْ وَلَدِ الْمِسْوَرِ - عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، [ أَخْبَرَهُ] عَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي فِي زَمَنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَإِذَا خَرَجَ عُمَرُ - رَضِيَ اللهُ عَنْهُ - وَجَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَطَعْنَا الصَّلَاةَ ، وَكُنَّا نَتَحَدَّثُ وَيُحَدِّثُنَا ، فَرُبَّمَا سَأَلَ الرَّجُلُ الَّذِي يَلِيهِ عَنْ سُوقِهِمْ ، وَخُدَّامِهِمْ ، فَإِذَا سَكَتَ الْمُؤَذِّنُ خَطَبَ ، فَلَمْ نَتَكَلَّمْ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ خُطْبَتِهِ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ مَوْقُوفٌ .سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں جمعہ کے دن (نفل) نماز ادا کیا کرتے تھے، پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ (خطبے کے لیے) برآمد ہوتے اور منبر پر تشریف فرما ہو جاتے تو ہم نماز پڑھنا موقوف کر دیتے تھے۔ اس دوران ہم باہم گفتگو کرتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی ہم سے کلام فرماتے تھے، یہاں تک کہ بسا اوقات کوئی شخص اپنے برابر بیٹھے ہوئے ساتھی سے ان کے بازار کی صورتحال اور ان کے خادموں کے متعلق دریافت کر لیتا تھا۔ پھر جب مؤذن (اذان دے کر) خاموش ہو جاتا تو آپ رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرماتے، اس کے بعد ہم اس وقت تک کوئی کلام نہیں کرتے تھے جب تک کہ آپ اپنے خطبے سے فارغ نہ ہو جاتے۔“
یہ سند صحیح اور موقوف ہے۔