المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ خِصَالِ الْفِطْرَةِ باب: فطرت کی خصلتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 70
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ ، ثَنَا حَفْصُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، حَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، قَالَ : " رَأَيْتُ شَقِيقًا أَخَذَ مِنْ شَعَرِهِ ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَصَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ وَلَمْ يَمَسَّ مَاءً " .ترجمہ
عاصم بن بہدلہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں نے شقیق کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے (سر یا داڑھی کے) بال کٹوائے، پھر وہ مسجد میں داخل ہوئے اور ظہر و عصر کی نمازیں ادا کیں اور (بال کٹوانے کے بعد نئے سرے سے وضو کرنے کے لیے) پانی کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔“