المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ خِصَالِ الْفِطْرَةِ باب: فطرت کی خصلتوں کا بیان۔
قَالَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ وَاصِلٍ قَالَ : أَتَيْتُ أَبَا أَيُّوبَ الْأَزْدِيَّ فَصَافَحْتُهُ ، فَرَأَى أَظْفَارِي طِوَالًا ، فَقَالَ : أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ ، فَقَالَ : " يَسْأَلُنِي أَحَدُكُمْ عَنْ خَبَرِ السَّمَاءِ وَيَدَعُ أَظْفَارَهُ كَأَظْفَارِ الطَّيْرِ ، تَجْتَمِعُ فِيهَا الْجَنَابَةُ وَالتَّفَثُ ! " .
قَالَ الْبَيْهَقِيُّ : أَبُو أَيُّوبَ هَذَا تَابِعِيٌّ ، وَالْحَدِيثُ مُرْسَلٌ . وَقَالَ يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ الرَّاوِي عَنْ أَبِي دَاوُدَ : أَخْرَجَهُ أَبُو مَسْعُودٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ ، عَنِ الْعَقَدِيِّ ، عَنْ قُرَيْشٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ فَرُّوخَ . قَالَ : لَقِيتُ أَبَا أَيُّوبَ ، فَذَكَرَهُ ، وَلَمْ يَقُلِ: الْأَزْدِيَّ .سیدنا واصل رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں ابوایوب الازدی رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے مصافحہ کیا، تو انہوں نے میرے ناخنوں کو لمبا پایا، تو انہوں نے فرمایا کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے (دینی مسائل) دریافت کرنے لگا، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی مجھ سے آسمان کی خبروں یعنی وحی و غیب کے بارے میں سوال کرتا ہے، حالانکہ وہ اپنے ناخنوں کو پرندوں کے چنگلوں کی طرح لمبا چھوڑ دیتا ہے، جن میں جنابت یعنی ناپاکی اور میل کچیل جمع ہوتا رہتا ہے!“ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ ابوایوب ایک تابعی بزرگ ہیں اور یہ حدیث مرسل ہے“، جبکہ ابوداؤد کے راوی یونس بن حبیب کہتے ہیں کہ ابومسعود رازی نے اسے عقدی سے، انہوں نے قریش سے، اور انہوں نے سلیمان بن فروخ سے روایت کیا ہے جنہوں نے کہا: ”میں ابوایوب سے ملا“، پھر انہوں نے یہی واقعہ ذکر کیا لیکن انہوں نے ”الازدی“ کا لفظ نہیں کہا۔