المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْغُسْلِ لِلْجُمُعَةِ باب: نمازِ جمعہ کے لیے غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 693
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ زَاذَانَ قَالَ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ الْغُسْلِ ؟ فَقَالَ : اغْتَسِلْ كُلَّ يَوْمٍ إِنْ شِئْتَ قَالَ : لَا ، بَلِ الْغُسْلُ : أَيِ الْمُسْتَحَبُّ ، قَالَ : اغْتَسِلْ كُلَّ يَوْمِ جُمُعَةٍ ، وَيَوْمَ الْفِطْرِ ، وَيَوْمَ النَّحْرِ ، وَيَوْمَ عَرَفَةَ .ترجمہ
زاذان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے غسل کے متعلق دریافت کیا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر تم چاہو تو ہر روز غسل کر لیا کرو۔“ اس شخص نے عرض کیا: ”نہیں، بلکہ (میری مراد وہ) غسل ہے جو شرعی طور پر مستحب اور باعثِ فضیلت ہے؟“ اس پر آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا: ”تم ہر جمعہ کے دن، عید الفطر کے دن، عید الاضحیٰ کے دن اور عرفہ (نو ذوالحجہ) کے دن غسل کیا کرو۔“
اس روایت کی سند صحیح ہے، اسے امام شافعی نے ”المسند“ میں اور امام بیہقی نے ”السنن الکبریٰ“ میں روایت کیا ہے، نیز علامہ البانی نے ”ارواء الغلیل“ میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔