المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
أبواب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ الْغُسْلِ لِلْجُمُعَةِ باب: نمازِ جمعہ کے لیے غسل کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 692
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ أَيْضًا : حَدَّثَنَا أَبُو حُرَّةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ تَوَضَّأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَبِهَا وَنِعْمَتْ ، وَمَنِ اغْتَسَلَ فَالْغُسْلُ أَفْضَلُ .
قُلْتُ : الْمَشْهُورُ عَنِ الْحَسَنِ فِي هَذَا عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ لَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ .ترجمہ
سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (اور راوی کا گمان ہے کہ یہ روایت براہِ راست نبی کریم ﷺ سے ہی مروی ہے) کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جس شخص نے جمعہ کے دن (نماز کے لیے) صرف وضو کیا تو اس نے شرعی رخصت اور سنت پر عمل کیا اور یہ بہت اچھا ہے، لیکن جس نے غسل کیا تو غسل کرنا وضو کی نسبت کہیں زیادہ فضیلت والا اور بہتر عمل ہے۔“
میں کہتا ہوں کہ امام حسن بصری سے اس مقام پر منقول روایات میں زیادہ معروف و مشہور بات یہ ہے کہ وہ اسے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، نہ کہ سیدنا عبدالرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے۔