❮
❯
حدیث نمبر: 678
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ حَسَّانَ ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : إِنَّهُ سُئِلَ عَنِ السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، فَقَالَ : اللهُ أَعْلَمُ ، إِنَّ اللهَ تَعَالَى خَلَقَ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، فَخَلَقَهُ مِنْ قَبْضَةٍ قَبَضَهَا مِنْ أَدِيمِ الْأَرْضِ كُلِّهَا ، أَلَا تَرَى أَنَّ مِنْ ذُرِّيَّتِهِ الْأَحْمَرَ ، وَالْأَسْوَدَ ، وَالْخَبِيثَ ، وَالطَّيِّبَ ، ثُمَّ عَهِدَ إِلَيْهِ فَنَسِيَ ، فَمِنْ ثَمَّةَ سُمِّيَ الْإِنْسَانُ ، فَبِاللهِ مَا غَابَتِ الشَّمْسُ مِنْ ذَلِكَ الْيَوْمِ حَتَّى أُهْبِطَ إِلَى الدُّنْيَا .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان سے اس مبارک گھڑی کے متعلق دریافت کیا گیا جو جمعہ کے دن (قبولیت کے لیے) ہوتی ہے، تو انہوں نے جواباً ارشاد فرمایا: ”اللہ ہی بہتر جانتا ہے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کو جمعہ کے دن عصر کے بعد پیدا فرمایا، اور ان کی تخلیق مٹی کی اس مٹھی سے فرمائی جو اس نے پوری روئے زمین کی سطح سے لی تھی، کیا تم مشاہدہ نہیں کرتے کہ ان کی اولاد میں کوئی سرخ رنگت والا ہے، کوئی سیاہ فام، کوئی بدطینت و خبیث ہے تو کوئی پاکیزہ و طیب؟ پھر اللہ رب العزت نے ان سے عہد و پیمان لیا مگر وہ اسے بھول گئے، اور اسی نسیان و بھول چوک کی وجہ سے ان کا نام انسان رکھا گیا، اللہ کی قسم! ابھی اس دن کا سورج غروب نہیں ہوا تھا کہ انہیں دنیا کی طرف اتار دیا گیا۔“
اسے امام مسدد نے روایت کیا ہے، اس کی سند کے تمام راوی ثقہ ہیں اور یہ صحیح موقوف روایت ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / أبواب الجمعة / حدیث: 678
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :مرفوع حكمًا، إسناده صحيح. »
«أخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 3456، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 678، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5580، 5581»