المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الطهارة— طہارت کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ السِّوَاكِ باب: مسواک کا بیان۔
حدیث نمبر: 67
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، ثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثَنَا حَمَّادٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ " .
67 \ 2 - حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ - بِهَذَا . قَالَ عَبْدُ الْأَعْلَى : هُوَ خَطَأٌ ، وَالصَّوَابُ : عَنِ ابْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا .ترجمہ
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: «السِّوَاكُ مَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ ، مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ» ”مسواک کرنا منہ کی صفائی و پاکیزگی کا ذریعہ اور پروردگار کی رضا و خوشنودی حاصل کرنے کا سبب ہے“۔ امام ابو یعلیٰ نے اس حدیث کو ایک دوسرے طریق سے بھی روایت کیا ہے جس میں راوی عبد الأعلىٰ بن حماد نے صراحت کی ہے کہ پہلی سند میں راوی سے چوک ہوئی ہے، اور صحیح بات یہ ہے کہ یہ روایت ابن ابی عتیق کے واسطے سے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے۔