المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب النوافل— نفل نمازوں کے احکام و فضائل کا بیان۔
بَابُ رَوَاتِبِ الصَّلَاةِ وَالْمُحَافَظَةِ عَلَيْهَا باب: سننِ رواتب اور ان کی پابندی کا بیان۔
حدیث نمبر: 622
وَبِهِ إِلَى شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ يَسَارٍ ، قَالَ : أَشْهَدُ عَلَى خَمْسَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ أَنَّهُمْ كَانُوا يُصَلُّونَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْمَغْرِبِ .ترجمہ
راشد بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ”میں نبی کریم ﷺ کے ان پانچ جلیل القدر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے متعلق (حلفیہ) گواہی دیتا ہوں جنہوں نے ﴿لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ﴾ [سورة الفتح: 18] کے مصداق درخت کے نیچے بیعت (بیعتِ رضوان) کی عظیم سعادت حاصل کی تھی کہ وہ مغرب کی فرض نماز شروع ہونے سے پہلے دو رکعتیں (نفل) ادا کیا کرتے تھے۔“
اس روایت کی تخریج امام ابن ابی شیبہ نے ”المصنف“ (حدیث: 7468) میں کی ہے اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں جس کی بنا پر یہ روایت حسن درجے کی ہے۔