❮
❯
حدیث نمبر: 610
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا بِشْرٌ ، ثَنَا أَبُو هَارُونَ الْغَنَوِيُّ ، عَنْ أَبِي سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : يَا أَبَا يَحْيَى ، أَلَمْ تَرَ أَنِّي نِمْتُ اللَّيْلَةَ عَنِ الْوِتْرِ ! ؟ أَتَانِي ابْنُ مَخْرَمَةَ وَآخَرُ مَعَهُ ، فَشَغَلَانِي عَنِ الْوِتْرِ ، فَنِمْتُ حَتَّى أَصْبَحْتُ فَأَيْقَظَتْنِي الْجَارِيَةُ ، فَقُلْتُ لَهَا : انْظُرِي هَلْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ؟ فَقَالَتْ : لَا ، فَرَكَعْتُ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ قُلْتُ : انْظُرِي هَلْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ ؟ قَالَتْ : لَا ، فَصَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ .
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے ابو یحییٰ سے فرمایا: ”اے ابو یحییٰ! کیا تم نے دیکھا کہ گزشتہ رات میں وتر کی نماز سے (غافل ہو کر) سو گیا تھا! میرے پاس ابن مخرمہ اور ان کے ساتھ ایک اور شخص آئے تھے، ان دونوں نے مجھے (بات چیت میں ایسا) مشغول کر دیا کہ میں وتر نہ پڑھ سکا، پھر میں سو گیا یہاں تک کہ صبح ہو گئی اور مجھے لونڈی نے بیدار کیا۔ میں نے اس سے کہا: دیکھو، کیا سورج طلوع ہو گیا ہے؟ اس نے جواب دیا: نہیں، تو میں نے فجر کی دو (سنت) رکعتیں ادا کیں، پھر میں نے پوچھا: دیکھو، کیا اب سورج نکل آیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں، تو میں نے فجر کی (فرض) نماز ادا کی۔“
اسے امام مسدد بن مسرہد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں موجود راوی ابوہارون الغنوی پر جرح و تعدیل کے حوالے سے کلام موجود ہے، لیکن دیگر شواہد کی بنا پر مفہوم درست ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النوافل / حدیث: 610
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده حسن لغيره. »
«أورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 610، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 2231»