❮
❯
حدیث نمبر: 573
وَقَالَ مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، عَنْ خَادِمِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : لَكَ حَاجَةٌ ؟ حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، حَاجَتِي قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَا حَاجَتُكَ ؟ قَالَ: حَاجَتِي أَنْ تَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَمَنْ دَلَّكَ عَلَى هَذَا ؟ ! قَالَ : رَبِّي ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ .
ترجمہ

رسول اللہ ﷺ کے ایک خادم (مرد یا عورت) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (اکثر) ان سے دریافت فرمایا کرتے تھے: ”کیا تمہیں کوئی حاجت ہے؟“ یہاں تک کہ ایک دن انہوں نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! میری ایک ضرورت ہے۔“ آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تمہاری کیا حاجت ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ”میری حاجت یہ ہے کہ آپ قیامت کے دن میری شفاعت فرمائیں (یعنی میری بخشش کا وسیلہ بنیں)۔“ آپ ﷺ نے (تعجب اور خوشی کے اظہار کے طور پر) دریافت فرمایا: ”تمہیں اس (اعلیٰ مقصد) کی طرف کس نے رہنمائی کی ہے؟!“ انہوں نے جواب دیا: ”میرے رب نے (میرے دل میں یہ بات ڈالی ہے)۔“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تو پھر تم (اپنی اس مراد کے پانے اور میری شفاعت کے استحقاق کے لیے) کثرتِ سجود (یعنی کثرت سے نمازیں پڑھنے) کے ذریعے میری مدد کرو۔“
اس حدیث کو امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور علامہ البانی سمیت دیگر محدثین نے اس کی سند کو حسن یا صحیح قرار دیا ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب النوافل / حدیث: 573
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :صحيح لذاته. »
«أخرجه مسند أحمد برقم: 15646، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1643، 6505/1»