المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ فَضْلِ الْمَشْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ بِاللَّيْلِ باب: رات کے وقت مسجد پیدل جانے کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 566
قَالَ أَبُو بَكْرٍ ، وَعَبْدٌ جَمِيعًا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى ، أَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ نِبْرَاسٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ يَمْشِي ، وَأَنَا مَعَهُ نُقَارِبُ فِي الْخُطَا ، فَقَالَ : إِنَّمَا فَعَلْتُ هَذَا لِيَكْثُرَ عَدَدُ خُطَانَا فِي طَلَبِ الصَّلَاةِ .
566 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ بِهَذَا .
قُلْتُ : الضَّحَّاكُ ضَعِيفُ الْحِفْظِ ، وَالْمَحْفُوظُ فِي هَذَا مَوْقُوفٌ عَلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .ترجمہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: نماز کی تکبیرِ (اقامت) کہی جا چکی تھی تو رسول اللہ ﷺ مسجد کی طرف پیدل چلتے ہوئے تشریف لے گئے اور میں بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھا، ہم دونوں (راستے میں) چھوٹے چھوٹے قدم اٹھا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں نے یہ عمل محض اس لیے کیا ہے تاکہ نماز کی طلب و جستجو میں ہمارے قدموں کی تعداد بڑھ جائے۔“
میں کہتا ہوں کہ ضحاک نامی راوی حفظ کے اعتبار سے ضعیف ہے، اور اس معاملے میں محفوظ اور درست بات یہ ہے کہ یہ روایت سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔