المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْحَثِّ عَلَى سَجْدَتَيْنِ عَقِبَ كُلِّ صَلَاةٍ باب: ہر نماز کے بعد دو سجدوں کی ترغیب کا بیان۔
قَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا : إِنِ اسْتَطَعْتَ أَلَّا تُصَلِّيَ صَلَاةً إِلَّا سَجَدْتَ بَعْدَهَا سَجْدَتَيْنِ فَافْعَلْ .
هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ .
وَكَأَنَّ الْمُرَادَ بِالسَّجْدَتَيْنِ : الرَّكْعَتَانِ ، وَبِالصَّلَاةِ : الْمَفْرُوضَةُ ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ يَرَى السُّجُودَ لِلسَّهْوِ ، وَإِنْ لَمْ يَسْهُ احْتِيَاطًا لِأَنْ يَكُونَ سَهَا وَاللهُ أَعْلَمُ .
( 24 ) وَسَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى فِي كِتَابِ السَّهْوِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَقِيقٍ التَّابِعِيِّ مَا يُؤَيِّدُ ذَلِكَ .سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”اگر تم اس بات کی استطاعت رکھتے ہو کہ ایسی کوئی نماز نہ پڑھو جس کے بعد تم دو سجدے نہ کرو، تو ایسا ضرور کیا کرو۔“
یہ سند صحیح ہے۔ اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ”دو سجدوں“ سے مراد دو رکعتیں ہیں، اور ”نماز“ سے مراد فرض نماز ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ ان کی مراد بطورِ احتیاط سجدہ سہو ہو، اگرچہ نمازی سے کوئی بھول چوک نہ بھی ہوئی ہو، تاکہ اگر نادانستہ طور پر کوئی سہو ہوا ہو تو اس کی تلافی ہو جائے، واللہ اعلم۔
(24) اور ان شاء اللہ تعالیٰ عنقریب ”کتاب السہو“ میں مشہور تابعی عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ سے وہ روایت آئے گی جو اس موقف کی تائید کرتی ہے۔