المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ صَلَاةِ الِاسْتِخَارَةِ باب: نمازِ استخارہ کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، ثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَمْرًا ، فَلْيَقُلِ : اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ . اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا - فِي الْأَمْرِ الَّذِي تُرِيدُ - خَيْرًا لِي فِي دِينِي ، وَمَعِيشَتِي ، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ، وَإِلَّا فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ ، ثُمَّ اقْدُرْ لِي الْخَيْرَ أَيْنَمَا كَانَ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ .
558 \ 2 - وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، ثَنَا يَعْقُوبُ بِهِ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم میں سے کوئی کسی معاملے کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ یوں کہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ . اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ كَذَا وَكَذَا - فِي الْأَمْرِ الَّذِي تُرِيدُ - خَيْرًا لِي فِي دِينِي ، وَمَعِيشَتِي ، وَعَاقِبَةِ أَمْرِي ، وَإِلَّا فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ ، ثُمَّ اقْدُرْ لِي الْخَيْرَ أَيْنَمَا كَانَ ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ» ”اے اللہ! میں تیرے علم کے واسطے سے تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں، اور تیری قدرت کے ذریعے تجھ سے (خیر پانے کی) قدرت و استطاعت مانگتا ہوں، اور میں تجھ سے تیرے فضلِ عظیم کا سوال کرتا ہوں، کیونکہ یقیناً تو ہی قدرت رکھنے والا ہے اور میں کوئی قدرت نہیں رکھتا، تو ہی سب جاننے والا ہے اور میں کچھ نہیں جانتا، اور تو ہی تمام چھپی ہوئی باتوں کا خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر یہ کام (یہاں اس کام کا ذکر کرے جس کا ارادہ ہو) میرے حق میں، میرے دین، میری زندگی اور میرے انجامِ کار کے لحاظ سے بہتر ہے (تو اسے میرے لیے مقدر فرما دے)، ورنہ تو اس کام کو مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے دور کر دے، پھر میرے لیے خیر کو مقدر فرما دے وہ جہاں کہیں بھی ہو، اور (بدی سے) بچنے کی ہمت اور (نیکی کی) قوت اللہ ہی کی توفیق سے ہے جو نہایت بلند اور بہت عظمت والا ہے۔“
امام ابن حبان نے اس روایت کو امام ابویعلیٰ کی ذکر کردہ سند سے ہی بیان کیا ہے۔