المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ سُجُودِ التِّلَاوَةِ فِي الصَّلَاةِ وَغَيْرِهِ وَجَوَازِ الرُّكُوعِ عِنْدَ سُجُودِ التِّلَاوَةِ باب: نماز اور نماز کے باہر سجدۂ تلاوت اور اس کے موقع پر رکوع کے جواز کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، عَنْ رَجُلَيْنِ : كِلَاهُمَا خَيْرٌ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : إِنَّ أَحَدَهُمَا سَجَدَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، أَوْ فِي اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ ، وَلَمْ يَسْجُدِ الْآخَرُ ، فَكَانَ الَّذِي سَجَدَ أَفْضَلَ مِنَ الَّذِي لَمْ يَسْجُدْ ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَهُوَ خَيْرٌ مِنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .
( 24 ) وَحَدِيثُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، تَقَدَّمَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الصَّلَاةِ .سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دو ایسے جلیل القدر افراد کے متعلق روایت ہے کہ وہ دونوں ہی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بہتر و برتر تھے، انہوں نے فرمایا: ”ان میں سے ایک نے سورہ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] یا سورہ ﴿اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ [سورة العلق: 1] کی تلاوت کرتے ہوئے سجدہ تلاوت کیا جبکہ دوسرے نے سجدہ نہیں کیا، چنانچہ جس نے سجدہ کیا وہ اس شخص سے افضل و بہتر ٹھہرا جس نے سجدہ نہیں کیا تھا، پس اگر وہ سجدہ کرنے والی شخصیت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نہیں تھے تو وہ یقیناً سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی بہتر (یعنی سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) تھے۔“
(24) اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی سورہ ﴿إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ﴾ [سورة الانشقاق: 1] میں سجدہ تلاوت کرنے کے متعلق حدیث، نماز میں قراءت کے بیان میں پہلے گزر چکی ہے۔