المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ التَّسْلِيمِ باب: نماز سے سلام پھیرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 530
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ ، ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَبِي مُعَاذٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ يَسَارِهِ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ .ترجمہ
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نماز کے اختتام پر اپنی دائیں جانب اور اپنی بائیں جانب سلام پھیرتے تھے اور ان کلمات کی ادائیگی فرماتے تھے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ» ”تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت نازل ہو، تم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمت نازل ہو۔“
اس روایت کی سند میں محمد بن عمر الواقدی راوی ہیں جو محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں، تاہم نماز میں دائیں اور بائیں دونوں جانب سلام پھیرنا دیگر صحیح اور مستند احادیث سے ثابت شدہ سنتِ مطہرہ ہے۔