المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْفِعْلِ الْيَسِيرِ لَا يُبْطِلُ الصَّلَاةَ باب: معمولی عمل سے نماز باطل نہ ہونے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، ثَنَا مُحَمَّدٌ - هُوَ ابْنُ أَبِي لَيْلَى - عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : جَاءَ الْحُسَيْنُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاجِدٌ فَرَكِبَ عَلَى ظَهْرِهِ ، فَأَخَذَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فَقَامَ وَهُوَ عَلَى ظَهْرِهِ ، ثُمَّ رَكَعَ ، ثُمَّ أَرْسَلَهُ ، فَذَهَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”سیدنا حسین رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں اس وقت تشریف لائے جب آپ ﷺ سجدے کی حالت میں تھے، پس وہ آپ ﷺ کی پشتِ مبارک پر سوار ہو گئے، تو نبی کریم ﷺ نے انہیں اپنے دستِ مبارک سے تھام لیا اور اسی حالت میں کھڑے ہو گئے کہ وہ آپ ﷺ کی پیٹھ پر ہی سوار تھے، پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا اور اس کے بعد انہیں نیچے چھوڑ دیا تو وہ رضی اللہ عنہ چلے گئے۔“
اس روایت کی سند میں محمد بن ابی لیلیٰ اپنے حافظے کی کمزوری کی وجہ سے ضعیف قرار دیے گئے ہیں اور عطیہ عوفی بھی محلِ نظر راوی ہیں، تاہم نماز کے دوران بچوں کو اٹھانے اور حسن و حسین رضی اللہ عنہما کے پشتِ مبارک پر سوار ہونے کے دیگر مستند شواہد و آثار موجود ہیں۔