المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْفِعْلِ الْيَسِيرِ لَا يُبْطِلُ الصَّلَاةَ باب: معمولی عمل سے نماز باطل نہ ہونے کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى الصَّدَفِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي بَيْتِي ، فَأَقْبَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : فَقَامَ إِلَى جَنْبِهِ عَنْ يَمِينِهِ ، فَأَقْبَلَتْ عَقْرَبٌ نَحْوَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا دَنَتْ مِنْهُ : صُدَّتْ عَنْهُ ، فَأَقْبَلَتْ نَحْوَ عَلِيٍّ ، فَأَخَذَ النَّعْلَ فَقَتَلَهَا وَهُوَ يُصَلِّي ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : قَاتَلَهَا اللهُ ! أَقْبَلَتْ نَحْوَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ صُدَّتْ عَنْهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَتْ تُرِيدُنِي ، فَلَمْ يَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهَا فِي الصَّلَاةِ بَأْسًا .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں نماز ادا فرما رہے تھے کہ اتنے میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تشریف لائے اور آپ ﷺ کے پہلو میں آپ کی دائیں جانب (نماز کے لیے) کھڑے ہو گئے۔ اسی دوران ایک بچھو نبی کریم ﷺ کی جانب بڑھنے لگا، لیکن جب وہ آپ ﷺ کے بالکل قریب پہنچا تو اسے آپ سے روک دیا گیا (یا اس کا رخ مڑ گیا)، پھر وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف مڑ گیا۔ انہوں نے (اپنا) جوتا پکڑا اور نماز کی حالت ہی میں اسے مار ڈالا۔ جب انہوں نے اپنی نماز مکمل کر لی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «قَاتَلَهَا اللهُ !» ”اللہ اسے غارت کرے!“ یہ پہلے نبی کریم ﷺ کی طرف بڑھی، پھر اس کا رخ وہاں سے پھیر دیا گیا، پھر یہ میرا ارادہ کر کے میری طرف لپکی۔ رسول اللہ ﷺ نے ”نماز کے دوران اسے قتل کرنے میں کوئی حرج محسوس نہیں فرمایا۔“
مسند ابویعلیٰ: 4627، امام ہیثمی نے مجمع الزوائد میں اسے ذکر کیا ہے، اس کی سند میں معاویہ بن یحییٰ الصدفی ضعیف راوی ہے۔