المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابٌ فِي التَّكْبِيرِ باب: تکبیر کا بیان۔
قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، ثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ ثُوَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : أَوَّلُ مَنْ نَقَصَ التَّكْبِيرَ : الْوَلِيدُ بْنُ عُقْبَةَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ : نَقَصُوهَا نَقَصَهُمُ اللهُ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ كُلَّمَا رَكَعَ ، وَكُلَّمَا سَجَدَ ، وَكُلَّمَا رَفَعَ رَأْسَهُ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”سب سے پہلے جس شخص نے تکبیراتِ نماز میں کمی کی وہ ولید بن عقبہ تھا“، اس پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”انہوں نے تکبیروں میں کمی کر دی ہے“، «نَقَصَهُمُ اللهُ» ”اللہ تعالیٰ بھی ان کے اجر و مرتبہ میں کمی فرمائے“، مزید فرمایا: ”بے شک میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ جب بھی رکوع فرماتے، جب بھی سجدہ کرتے اور جب بھی سجدے سے اپنا سر مبارک اٹھاتے تو تکبیر (اللہ اکبر) کہا کرتے تھے“۔
اس حدیث کی سند میں ثویر بن ابی فاختہ نامی راوی ضعیف ہے، البتہ نماز کے ہر رکن کی طرف منتقلی کے وقت تکبیر (تکبیراتِ انتقال) کہنا دیگر صحیح و مستند احادیث سے ثابت ہے۔