المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالذِّكْرِ فِيهِمَا باب: رکوع، سجدے اور ان میں کیے جانے والے ذکر کا بیان۔
وَقَالَ الطَّيَالِسِيُّ : حَدَّثَنَا سَلَّامٌ - هُوَ أَبُو الْأَحْوَصِ - عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ سَيَّارِ بْنِ الْمَغْرُورِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنَى هَذَا الْمَسْجِدَ ، وَنَحْنُ مَعَهُوَالْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ ، فَإِذَا اشْتَدَّ الزِّحَامُ فَلْيَسْجُدِ الرَّجُلُ مِنْكُمْ عَلَى ظَهْرِ أَخِيهِ . وَرَأَى قَوْمًا يُصَلُّونَ فِي الطَّرِيقِ ، فَقَالَ لَهُمْ : صَلُّوا فِي الْمَسْجِدِ .
505 \ 2 - وَقَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، فَذَكَرَهُ إِلَى قَوْلِهِ : عَلَى ظَهْرِ أَخِيهِ .سیدنا سیار بن مغرور رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا، وہ فرما رہے تھے: ”اے لوگو! یقیناً رسول اللہ ﷺ نے اس مسجد کی تعمیر فرمائی جبکہ ہم، مہاجرین اور انصار آپ ﷺ کے ہمراہ تھے، پس جب (نماز کے دوران) ازدحام اور ہجوم بہت زیادہ ہو جائے تو تم میں سے ہر شخص اپنے (آگے والے) بھائی کی پشت پر سجدہ کر لیا کرے۔“ نیز انہوں نے کچھ لوگوں کو راستے میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو انہیں حکم دیا: ”مسجد کے اندر (ہی) نماز ادا کیا کرو۔“
امام ابوبکر بن ابی شیبہ نے بھی اس روایت کو ابوالاحوص کے طریق سے نقل کیا ہے، البتہ ان کی روایت ”اپنے بھائی کی پشت پر سجدہ کر لے۔“ کے الفاظ تک ہی محدود ہے۔