المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ التَّبَسُّمِ وَالتَّفَكُّرِ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں مسکرانے اور غور و فکر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 495
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ : إِذَا كُنْتَ فِي أَمْرٍ مِنْ أُمُورِ الدُّنْيَا فَتَوَحَّ ، وَإِذَا كُنْتَ فِي أَمْرٍ مِنْ أُمُورِ الْآخِرَةِ فَتَمَكَّثْ مَا اسْتَطَعْتَ ، وَإِذَا هَمَمْتَ بِخَيْرٍ فَلَا تُؤَخِّرْهُ ، وَإِذَا أَتَاكَ الشَّيْطَانُ وَأَنْتَ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ : إِنَّكَ مُرَاءٍ ، فَأَطِلْهَا .ترجمہ
حارث بن قیس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب تم دنیا کے کاموں میں سے کسی کام میں ہو تو اسے پھرتی اور تیزی سے مکمل کرو، اور جب تم آخرت کے امور میں سے کسی معاملے میں ہو تو جس قدر ہو سکے اس میں ٹھہراؤ اور وقار اختیار کرو، اور جب تم کسی کارِ خیر کا ارادہ کرو تو اس میں تاخیر نہ کرو، اور اگر تم نماز پڑھ رہے ہو اور شیطان تمہارے پاس آ کر یہ کہے کہ ”تم ریا کار ہو“ تو تم اس نماز کو مزید طویل کر دو۔“
اسے امام مسدد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے اور اس کی سند کے تمام راوی ثقہ و معتبر ہیں۔