المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ التَّبَسُّمِ وَالتَّفَكُّرِ فِي الصَّلَاةِ باب: نماز میں مسکرانے اور غور و فکر کرنے کا بیان۔
قَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، ثَنَا الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْعَصْرَ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ إِذْ تَبَسَّمَ فِي الصَّلَاةِ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللهِ ، تَبَسَّمْتَ وَأَنْتَ فِي الصَّلَاةِ ؟! قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّ مِيكَائِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَرَّ بِي وَهُوَ رَاجِعٌ مِنْ طَلَبِ الْقَوْمِ ، وَعَلَى جَنَاحِهِ غُبَارٌ : فَضَحِكَ إِلَيَّ ، فَتَبَسَّمْتُ إِلَيْهِ .
قُلْتُ : عَلِيٌّ مَتْرُوكٌ ، وَرَمَاهُ ابْنُ حِبَّانَ بِالْوَضْعِ وَالْوَازِعُ ضَعِيفٌ جِدًّا ، وَاهٍ .
494 \ 1 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ نَحْوَهُ .سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ غزوہ بدر کے دوران عصر کی نماز ادا فرما رہے تھے تو آپ ﷺ نماز ہی کی حالت میں مسکرا دیے، چنانچہ جب آپ ﷺ نے نماز مکمل فرمائی تو صحابہ کرام نے عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! کیا آپ نماز کے دوران مسکرائے ہیں؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”درحقیقت (فرشتہ) میکائیل علیہ الصلاۃ والسلام میرے پاس سے اس حال میں گزرے کہ وہ دشمنانِ دین کا پیچھا کر کے واپس لوٹ رہے تھے اور ان کے پروں پر غبار چھایا ہوا تھا، پس وہ مجھے دیکھ کر ہنسے تو میں (بھی) انہیں دیکھ کر مسکرا دیا۔“
میں کہتا ہوں کہ اس کا راوی علی (ابن ثابت) متروک ہے اور امام ابن حبان نے اسے حدیثیں گھڑنے والا قرار دیا ہے، جبکہ وازع بن نافع بھی نہایت ضعیف اور کمزور راوی ہے؛ نیز امام ابو یعلیٰ نے بھی عمرو بن محمد الناقد کے واسطے سے علی بن ثابت سے اسی طرح کی روایت بیان کی ہے۔