المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابُ الْخُشُوعِ باب: خشوع کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، ثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ ، هُوَ ابْنُ حَرْبٍ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ فِي بَطْنِهِ رِزًّا ، أَوْ شَيْئًا وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ : فَلْيَضَعْ يَدَهُ عَلَى أَنْفِهِ ، وَلْيَخْرُجْ .سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو اور وہ اپنے پیٹ میں ریح کی حرکت کی وجہ سے کوئی آواز، گڑگڑاہٹ یا ایسی کوئی بات محسوس کرے (جس سے وضو ٹوٹنے کا احساس ہو)، تو اسے چاہیے کہ وہ (اپنی رسوائی سے بچنے اور پردہ پوشی کی خاطر نکسیر کا تاثر دیتے ہوئے) اپنا ہاتھ اپنی ناک پر رکھے اور نماز توڑ کر باہر نکل جائے۔“
اس روایت کی سند میں اسحاق بن ابی فروہ نامی راوی موجود ہے جو کہ محدثین کے نزدیک ضعیف اور متروک ہے، جس کی وجہ سے یہ سند فنی طور پر ضعیف ہے، تاہم فقہائے کرام نے حیا اور پردہ پوشی کی غرض سے اس طرح کے عمل کو مستحسن قرار دیا ہے۔