المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ الشفاعة وَفِيهِ أحاديث مِنْ البعث باب: شفاعت اور بعث سے متعلق احادیث کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ ، أَخْبَرَنِي الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، ثُمَّ أَذْهَبُ إِلَى أَهْلِ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ ، فَيُبْعَثُونَ مَعِي ، ثُمَّ أَنْتَظِرُ أَهْلَ مَكَّةَ حَتَّى يَأْتُونِي ، فَأُبْعَثُ بَيْنَ أَهْلِ الْحَرَمَيْنِ .امام سالم بن عبداللہ بن عمر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میں قیامت کے دن (قبرِ انور سے) سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے درمیان سے اٹھایا جاؤں گا، پھر میں بقیعِ غرقد (مدینہ منورہ کے قبرستان) والوں کی طرف جاؤں گا تو وہ بھی میرے ہمراہ اٹھائے جائیں گے، پھر میں اہلِ مکہ کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ وہ میرے پاس پہنچ جائیں، چنانچہ اس طرح میں حرمینِ شریفین (مکہ و مدینہ) کے رہنے والوں کے درمیان سے اٹھایا جاؤں گا۔“
اس روایت کو امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 947) میں نقل کیا ہے، اس کی سند میں قاسم بن عبداللہ اور اسحاق بن بشر ضعیف راوی ہیں، تاہم اس مفہوم کی روایت امام ترمذی نے سنن ترمذی (3669) میں بھی روایت کی ہے جسے انہوں نے حسن غریب قرار دیا ہے۔