❮
❯
حدیث نمبر: 4564
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، ثَنَا يُونُسُ هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ ، ثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يُعَرِّفُنِي اللهُ نَفْسَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأَسْجُدُ سَجْدَةً يَرْضَى بِهَا عَنِّي ، ثُمَّ أَمْدَحُهُ مِدْحَةً يَرْضَى بِهَا عَنِّي ، ثُمَّ يُؤْذَنُ لِي بِالْكَلَامِ ، ثُمَّ تَمُرُّ أُمَّتِي عَلَى الصِّرَاطِ ، وَهُوَ مَضْرُوبٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ جَهَنَّمَ ، فَيَمُرُّونَ أَسْرَعَ مِنَ الطَّرْفِ وَالسَّهْمِ ، ثُمَّ أَسْرَعَ مِنْ أَجْوَدِ الْخَيْلِ حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ مِنْهَا حَبْوًا ، وَهِيَ الْأَعْمَالُ ، وَجَهَنَّمُ تَسْأَلُ الْمَزِيدَ حَتَّى يَضَعَ قَدَمَهُ فِيهَا ، فَيَنْزَوِيَ بَعْضُهَا إِلَى بَعْضٍ ، وَتَقُولُ : قَطْ ، قَطْ ، وَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ ، قِيلَ : وَمَا الْحَوْضُ يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنَّ شَرَابَهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ ، وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ ، وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ ، وَآنِيَتَهُ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ ، لَا يَشْرَبُ مِنْهُ إِنْسَانٌ فَيَظْمَأُ أَبَدًا ، وَلَا يُصْرَفُ فَيُرْوَى أَبَدًا .
ترجمہ

سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مجھے اپنی معرفت عطا فرمائے گا (اپنی تجلی دکھائے گا)، تو میں بارگاہِ الہی میں ایسا سجدہ کروں گا جس سے وہ مجھ سے راضی ہو جائے گا، پھر میں اس کی ایسی تعریف و توصیف بیان کروں گا جس سے وہ مجھ سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے کلام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ اس کے بعد میری امت پل صراط سے گزرے گی جو کہ جہنم کے عین اوپر (دونوں کناروں کے درمیان) نصب کیا گیا ہوگا، پس لوگ اس پر سے پلک جھپکنے اور تیر کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے گزریں گے، پھر بہترین اصیل گھوڑوں کی رفتار سے بھی زیادہ تیز، یہاں تک کہ ایک شخص وہاں سے سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے نکلے گا، اور یہ رفتار ان کے اعمال کے مطابق ہوگی۔ اس وقت جہنم مزید کی طلبگار رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھ دے گا، جس سے وہ سمٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہو جائے گی اور کہے گی: «قَطْ، قَطْ» ”بس، بس (کافی ہے)“۔ اور میں اس وقت حوض پر موجود ہوں گا۔“ عرض کیا گیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! حوض کیا ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! یقیناً اس کا مشروب دودھ سے زیادہ سفید، شہد سے زیادہ میٹھا، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور خوشبو میں مشک سے زیادہ مہکدار ہے، اس کے جام (برتنوں) کی تعداد آسمان کے ستاروں کی گنتی سے بھی زیادہ ہے۔ جو انسان ایک مرتبہ اس سے پی لے گا اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی، اور جو وہاں سے دور کر دیا گیا وہ کبھی سیراب نہیں ہو سکے گا۔“
اسے امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند میں عبد الغفار بن قاسم راوی سخت ضعیف اور متروک ہے، تاہم پل صراط، جہنم کے بھر جانے اور حوضِ کوثر کی صفات کے متعلق اس حدیث کے شواہد صحیح بخاری و صحیح مسلم کی دیگر روایات میں موجود ہیں۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4564
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»