❮
❯
حدیث نمبر: 4563
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبَانَ ، ثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ ، عَنْ بِشْرِ بْنِ شَغَافٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ أَكْرَمَ خَلِيقَةِ اللهِ تَعَالَى عَلَيْهِ ، أَبُو الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّ الْجَنَّةَ فِي السَّمَاءِ ، وَإِنَّ النَّارَ فِي الْأَرْضِ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ بَعَثَ اللهُ الْخَلِيقَةَ أُمَّةً أُمَّةً ، وَنَبِيًّا نَبِيًّا حَتَّى يَكُونَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخِرَ الْخَلَائِقِ مَرْكَزًا ، ثُمَّ يُوضَعُ جِسْرٌ عَلَى جَهَنَّمَ ، ثُمَّ يُنَادَى : أَيْنَ مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ ؟ فَيَقُومُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَتْبَعُهُ أُمَّتُهُ بَرُّهَا وَفَاجِرُهَا .
ترجمہ

سیدنا عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ کی تمام مخلوقات میں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز و محترم شخصیت ابوالقاسم ﷺ کی ہے، اور یقیناً جنت آسمان میں ہے اور جہنم زمین میں ہے، پھر جب قیامت کا دن برپا ہوگا تو اللہ تعالیٰ تمام مخلوق کو گروہ در گروہ اور ہر نبی کو (ان کی امت کے ساتھ) اٹھائے گا، یہاں تک کہ محمد ﷺ مقام و مرتبے کے لحاظ سے تمام خلائق میں سب سے آخری مرکز (یعنی سب کے بعد تشریف لانے والے) ہوں گے، پھر جہنم پر ایک پل (صراط) رکھا جائے گا، اس کے بعد منادی کی جائے گی: ”کہاں ہیں محمد (ﷺ) اور ان کی امت؟“ پس آپ ﷺ (شفاعت و پیشوائی کے لیے) کھڑے ہوں گے اور آپ کی امت آپ کی اتباع کرتے ہوئے پیچھے چلے گی، جس میں ان کے نیکوکار اور بدکار (سب) شامل ہوں گے۔“
یہ روایت مسند الحارث (بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث: 1111) میں منقول ہے، اس کی سند میں عبد العزیز بن ابان نامی راوی کذاب اور متروک ہے، جس کی وجہ سے یہ سند سخت ضعیف ہے، البتہ دیگر صحیح احادیث سے اس کے بعض اجزاء کی تائید ہوتی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4563
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا »
«أخرجه المستدرك للحاكم برقم: 8795، وأخرجه المطالب العالية لابن حجر برقم: 3851، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 14983»