❮
❯
حدیث نمبر: 4531
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : يَا عُمَرُ ، كَيْفَ بِكَ إِذَا أَنْتَ مِتَّ ، فَقَاسُوا لَكَ ثَلَاثَةَ أَذْرُعٍ وَشِبْرًا فِي ذِرَاعٍ وَشِبْرٍ ، ثُمَّ رَجَعُوا إِلَيْكَ فَغَسَّلُوكَ وَكَفَّنُوكَ وَحَنَّطُوكَ ، ثُمَّ احْتَمَلُوكَ حَتَّى يَضَعُوكَ فِيهِ ، ثُمَّ هَيَّلُوا عَلَيْكَ التُّرَابَ ، فَإِذَا انْصَرَفُوا عَنْكَ أَتَاكَ فَتَّانَا الْقَبْرِ : مُنْكَرٌ وَنَكِيرٌ ، أَصْوَاتُهُمَا كَالرَّعْدِ الْقَاصِفِ ، وَأَبْصَارُهُمَا مِثْلُ الْبَرْقِ الْخَاطِفِ ، فَتَلْتَلَاكَ وَثَرْثَرَاكَ ، وَهَوَّلَاكَ ، فَكَيْفَ بِكَ عِنْدَ ذَلِكَ يَا عُمَرُ ؟ قَالَ : يَا رَسُولَ اللهِ ، وَمَعِيَ عَقْلِي ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِذًا أَكْفِيكَهُمَا .
رِجَالُهُ ثِقَاتٌ مَعَ إِرْسَالِهِ .
ترجمہ

امام عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: ”اے عمر! تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم انتقال کر جاؤ گے اور لوگ تمہارے لیے (قبر کی صورت میں) تین ہاتھ اور ایک بالشت لمبائی جبکہ ایک ہاتھ اور ایک بالشت چوڑائی کی پیمائش کریں گے، پھر وہ تمہاری طرف لوٹ کر تمہیں غسل دیں گے، کفن پہنائیں گے، خوشبو لگائیں گے اور پھر تمہیں اٹھا کر لے جائیں گے یہاں تک کہ تمہیں اس (قبر) میں اتار دیں گے، پھر تم پر مٹی ڈال دیں گے، اور جب وہ تم سے رخصت ہو جائیں گے تو تمہارے پاس قبر میں آزمائش کرنے والے دو فرشتے منکر اور نکیر آئیں گے، جن کی آوازیں کڑکتی ہوئی گرج کی مانند اور نگاہیں آنکھوں کو چندھیا دینے والی بجلی کی طرح ہوں گی، وہ تمہیں جھنجھوڑیں گے، تم پر گرجیں گے اور تمہیں دہشت زدہ کریں گے، تو اے عمر! اس کڑے وقت میں تمہارا کیا عالم ہوگا؟“ انہوں نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا اس وقت میری عقل (و ہوش) میرے ساتھ ہوگی؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”ہاں۔“ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”تب تو میں (اللہ کے فضل سے) ان دونوں کے لیے اکیلا ہی کافی ہو جاؤں گا۔“
اس کے راوی ثقہ ہیں، البتہ یہ روایت مرسل ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4531
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: رِجَالُهُ ثِقَاتٌ مَعَ إِرْسَالِهِ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»