❮
❯
حدیث نمبر: 4530
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَفَّارِ ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَارِقٍ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أُرَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَبْعَثَ اللهُ رِيحًا حَمْرَاءَ مِنَ الْيَمَنِ ، فَيَكْفِتُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ بِهَا كُلَّ نَفْسٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، وَمَا يُنْكِرُهَا النَّاسُ مِنْ قِلَّةِ مَنْ يَمُوتُ فِيهَا ، مَاتَ شَيْخٌ فِي بَنِي فُلَانٍ ، مَاتَتْ عَجُوزٌ فِي بَنِي فُلَانٍ ، وَيُسْرَى عَلَى كِتَابِ اللهِ تَعَالَى ، فَيُرْفَعُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَمَا يَبْقَى عَلَى الْأَرْضِ مِنْهُ آيَةٌ ، وَتُلْقِي الْأَرْضُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ ، فَلَا يُنْتَفَعُ بِهَا بَعْدَ ذَلِكَ الْيَوْمِ ، فَيَمُرُّ بِهَا الرَّجُلُ ، فَيَضْرِبُهَا بِرِجْلَيْهِ ، فَيَقُولُ : فِي هَذِهِ كَانَ يُقْتَلُ مَنْ قَبْلَنَا ، وَأَصْبَحَتِ الْيَوْمَ لَا يُنْتَفَعُ بِهَا .
ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے (راوی کو گمان ہے کہ انہوں نے اسے نبی کریم ﷺ سے منسوب کیا) کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تک کہ اللہ تعالیٰ یمن کی سمت سے ایک سرخ آندھی نہ بھیج دے، پھر اللہ عزوجل اس ہوا کے ذریعے ہر اس جان کو سمیٹ (قبض کر) لے گا جو اللہ تعالیٰ اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتی ہوگی، اور لوگ اس (ہوا) کی ہلاکت آفرینی کو اس وجہ سے محسوس نہیں کریں گے کیونکہ اس میں (بیک وقت) مرنے والوں کی تعداد کم معلوم ہوگی، بس (لوگوں میں یہ تذکرہ ہوگا کہ) بنو فلاں میں ایک بوڑھا انتقال کر گیا اور بنو فلاں میں ایک بڑھیا فوت ہوگئی؛ اور ایک رات اللہ تعالیٰ کی کتاب (قرآنِ کریم) کو اٹھا لیا جائے گا، چنانچہ اسے آسمان کی جانب بلند کر دیا جائے گا اور زمین پر اس کی ایک آیت بھی باقی نہیں رہے گی، اور زمین اپنے جگر کے ٹکڑے یعنی سونا اور چاندی (خزانوں کی صورت میں) باہر نکال پھینکے گی، مگر اس دن کے بعد ان سے کوئی نفع حاصل نہیں کیا جا سکے گا، یہاں تک کہ ایک آدمی وہاں سے گزرے گا تو ان (خزانوں) کو اپنے پاؤں سے ٹھوکر مارے گا اور کہے گا: اسی (دولت) کی خاطر ہم سے پہلے لوگ ایک دوسرے کو قتل کیا کرتے تھے اور آج یہ اس حال میں ہے کہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔“
[أخرجه الحاكم في المستدرك على الصحيحين: 8475، وقال: هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه، ووافقه الذهبي].

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الفتوح / حدیث: 4530
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف »
«أخرجه صحيح مسلم برقم: 117، وأخرجه صحيح ابن حبان برقم: 6697، وأخرجه المستدرك للحاكم برقم: 8500، وأخرجه جامع الترمذي برقم: 2208، وأخرجه مسند أبي يعلى برقم: 6171، وأخرجه مسند البزار برقم: 8282»