المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
صفة الصلاة— نماز کے طریقے اور کیفیت کا بیان۔
بَابٌ فِي الِاسْتِفْتَاحِ وَغَيْرِهِ باب: دعائے استفتاح اور دیگر امور کا بیان۔
وَقَالَ مُسَدَّدٌ : حَدَّثَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ ، فَأَتَاهُ رَجُلَانِ : أَنْصَارِيٌّ ، وَثَقَفِيٌّ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ : فَقَالَ الثَّقَفِيُّ : أَخْبِرْنِي يَا رَسُولَ اللهِ عَمَّا جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنْهُ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " جِئْتَ تَسْأَلُنِي عَنِ الصَّلَاةِ " ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثُمَّ إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَاقْرَأْ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ إِذَا رَكَعْتَ فَأَمْكِنْ يَدَيْكَ مِنْ رُكْبَتَيْكَ ، وَافْرُقْ بَيْنَ أَصَابِعِكَ حَتَّى تَطْمَئِنَّ رَاكِعًا ، ثُمَّ إِذَا سَجَدْتَ فَمَكِّنْ وَجْهَكَ مِنَ السُّجُودِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ سَاجِدًا ، وَصَلِّ مِنْ أَوَّلِ اللَّيْلِ وَآخِرِهِ " .
قَالَ : أَرَأَيْتُكَ إِنْ صَلَّيْتُ اللَّيْلَ كُلَّهُ ؟
قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنَّكَ إِذًا أَنْتَ .سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مسجدِ خیف میں بیٹھا ہوا تھا کہ آپ کے پاس دو شخص آئے، ایک انصاری تھا اور دوسرا ثقفی؛ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی جس میں یہ ہے کہ ثقفی شخص نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول! میں جس بات کے بارے میں آپ سے پوچھنے حاضر ہوا ہوں، مجھے اس کی خبر دے دیجیے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم مجھ سے نماز کے متعلق سوال کرنے آئے ہو۔“ پھر آپ ﷺ نے (نماز کی تفصیل بتاتے ہوئے) ارشاد فرمایا: ”پھر جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو قرآن میں سے جو کچھ میسر ہو اسے پڑھو، پھر جب رکوع کرو تو اپنے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے اپنے گھٹنوں پر جماؤ اور اپنی انگلیوں کو (گھٹنوں پر) پھیلا کر رکھو یہاں تک کہ تم رکوع کی حالت میں پرسکون و مطمئن ہو جاؤ، پھر جب تم سجدہ کرو تو اپنے چہرے کو سجدہ گاہ پر اچھی طرح جماؤ یہاں تک کہ تم سجدے کی حالت میں مطمئن ہو جاؤ، اور رات کے اول اور آخری حصے میں نماز پڑھا کرو۔“ اس شخص نے عرض کی: ”بھلا بتائیے! اگر میں پوری رات ہی نماز پڑھوں (تو کیا حکم ہے)؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”تب تو واقعی تم ہی کمال کرنے والے ہو۔“
اس حدیث کی سند میں اسماعیل بن رافع ضعیف راوی ہے، تاہم نماز کے بنیادی ارکان کی ادائیگی اور اطمینان کے متعلق دیگر صحیح احادیث میں بھی تاکید آئی ہے، یہ روایت مسند مسدد اور المطالب العالیہ (448) میں موجود ہے۔