❮
❯
حدیث نمبر: 440
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ سَعْدٍ ، ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، قَالَ : ( انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ يُصَلِّي خَلْفَ الْقَوْمِ وَحْدَهُ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا الْمُصَلِّي وَحْدَهُ ، أَلَا تَكُونُ وَصَلْتَ صَفًّا فَدَخَلْتَ مَعَهُمْ ، أَوِ اجْتَرَرْتَ إِلَيْكَ رَجُلًا إِنْ ضَاقَ بِكُمُ الْمَكَانُ ؟ أَعِدْ صَلَاتَكَ ، فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لَكَ ) .
ترجمہ

سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص لوگوں کی صفوں کے پیچھے تنہا نماز پڑھ رہا ہے، آپ ﷺ نے اسے مخاطب کر کے ارشاد فرمایا: ”اے اکیلے نماز پڑھنے والے! کیا تم کسی صف سے مل کر ان کے ساتھ شامل نہیں ہو سکتے تھے، یا اگر تمہارے لیے جگہ تنگ تھی تو کیا تم نے کسی شخص کو (صف سے) اپنی جانب نہیں کھینچ لیا تھا؟ اپنی نماز دوبارہ پڑھو، کیونکہ (صف کے پیچھے تنہا ہونے کی صورت میں) تمہاری نماز نہیں ہوئی۔“
امام ابو یعلیٰ نے اس روایت کو ابوعبیدہ بن فضیل بن عیاض، مالک بن سعد اور سری بن اسماعیل کی سند سے امام شعبی کے واسطے سے نقل کیا ہے، جس کا عنوان ہے کہ جو شخص اکیلا آئے اور صف کو مکمل پائے (تو اس کا کیا حکم ہے)۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 440
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدا
قال ابن حجر: فيه السري بن إسماعيل وهو متروك ، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 78) »
«أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 349، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 2198، وأبو داود فى «سننه» برقم: 682، والترمذي فى «جامعه» برقم: 230، 231، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1322، 1323، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1004، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 5288، ، والدارقطني فى «سننه» برقم: 1364، 1365، وأحمد فى «مسنده» برقم: 18283، والحميدي فى «مسنده» برقم: 908، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1588، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 440»