المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الصلاة— نماز کے احکام و مسائل کا بیان۔
بَابُ مَا يَصْنَعُ مَنْ جَاءَ وَحْدَهُ فَوَجَدَ الصَّفَّ كَامِلًا باب: صف مکمل ملنے پر تنہا آنے والے نمازی کے عمل کا بیان۔
قَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ ، ثَنَا مَالِكُ بْنُ سَعْدٍ ، ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ ، قَالَ : ( انْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَجُلٌ يُصَلِّي خَلْفَ الْقَوْمِ وَحْدَهُ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا الْمُصَلِّي وَحْدَهُ ، أَلَا تَكُونُ وَصَلْتَ صَفًّا فَدَخَلْتَ مَعَهُمْ ، أَوِ اجْتَرَرْتَ إِلَيْكَ رَجُلًا إِنْ ضَاقَ بِكُمُ الْمَكَانُ ؟ أَعِدْ صَلَاتَكَ ، فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لَكَ ) .سیدنا وابصہ بن معبد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو دیکھا کہ ایک شخص لوگوں کی صفوں کے پیچھے تنہا نماز پڑھ رہا ہے، آپ ﷺ نے اسے مخاطب کر کے ارشاد فرمایا: ”اے اکیلے نماز پڑھنے والے! کیا تم کسی صف سے مل کر ان کے ساتھ شامل نہیں ہو سکتے تھے، یا اگر تمہارے لیے جگہ تنگ تھی تو کیا تم نے کسی شخص کو (صف سے) اپنی جانب نہیں کھینچ لیا تھا؟ اپنی نماز دوبارہ پڑھو، کیونکہ (صف کے پیچھے تنہا ہونے کی صورت میں) تمہاری نماز نہیں ہوئی۔“
امام ابو یعلیٰ نے اس روایت کو ابوعبیدہ بن فضیل بن عیاض، مالک بن سعد اور سری بن اسماعیل کی سند سے امام شعبی کے واسطے سے نقل کیا ہے، جس کا عنوان ہے کہ جو شخص اکیلا آئے اور صف کو مکمل پائے (تو اس کا کیا حکم ہے)۔