المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتوح— اسلامی فتوحات کا بیان۔
بَابُ مقتل عثمان بن عفان رضي اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بیان۔
حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، ثَنَا سُلَيْمَانُ - وَهُوَ ابْنُ الْمُغِيرَةِ - ثَنَا حُمَيْدٌ - وَهُوَ ابْنُ هِلَالٍ الْعَدَوِيُّ - ثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُغَفَّلٍ قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَجِيءُ مِنْ أَرْضٍ لَهُ عَلَى أَتَانٍ أَوْ حِمَارٍ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَيُبَكِّرُ ، فَإِذَا قَضَى الصَّلَاةَ أَتَى أَرْضَهُ ، فَلَمَّا هَاجَ النَّاسُ بِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ لَهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : لَا تَقْتُلُوهُ ، وَاسْتَعْتِبُوهُ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا قَتَلَتْ أُمَّةٌ نَبِيَّهَا ، فَأَصْلَحَ اللهُ ذَاتَ بَيْنِهِمْ حَتَّى يُهَرِيقُوا دَمَ سَبْعِينَ أَلْفًا ، وَمَا قَتَلَتْ أُمَّةٌ خَلِيفَةً ، فَأَصْلَحَ اللهُ ذَاتَ بَيْنِهِمْ حَتَّى يُهَرِيقُوا دَمَ أَرْبَعِينَ أَلْفًا ، وَمَا هَلَكَتْ أُمَّةٌ قَطُّ حَتَّى يَرْفَعُوا الْقُرْآنَ عَلَى السُّلْطَانِ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : لَا تَقْتُلُوهُ وَاسْتَعْتِبُوهُ ، قَالَ : فَمَا نَظَرُوا فِيمَا قَالَ فَقَتَلُوهُ .
قَالَ : فَجَلَسَ عَلَى طَرِيقِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَتَّى أَتَاهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، فَقَالَ لَهُ : أَيْنَ تُرِيدُ ؟ فَقَالَ : الْعِرَاقَ ، فَقَالَ : لَا تَأْتِ الْعِرَاقَ ، وَعَلَيْكَ بِمِنْبَرِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَالْزَمْهُ ، وَلَا أَدْرِي هَلْ يُنْجِيكَ ، فَوَاللهِ لَئِنْ تَرَكْتَهُ لَا تَرَاهُ أَبَدًا ، فَقَالَ مَنْ حَوْلَهُ : دَعْنَا فَلْنَقْتُلْهُ ، قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَامٍ مِنَّا رَجُلٌ صَالِحٌ .
قَالَ ابْنُ مُغَفَّلٍ : وَكُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ ابْنَ سَلَامٍ فِي أَرْضٍ إِلَى جَنْبِ أَرْضِهِ أَنْ أَشْتَرِيَهَا ، فَقَالَ لِي بَعْدَ ذَلِكَ : هَذَا رَأْسُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، وَسَيَكُونُ بَعْدَهَا صُلْحٌ ، فَاشْتَرِهَا ، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَقُلْتُ لِحُمَيْدٍ : كَيْفَ يَرْفَعُونَ الْقُرْآنَ عَلَى السُّلْطَانِ ؟ فَقَالَ : أَلَمْ تَرَ إِلَى الْخَوَارِجِ كَيْفَ يَتَأَوَّلُونَ الْقُرْآنَ عَلَى السُّلْطَانِ .سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جمعہ کے روز اپنی زمین سے کسی گدھی یا گدھے پر سوار ہو کر (شہر) آتے اور نمازِ جمعہ کے لیے جلدی پہنچتے تھے، پھر جب نماز مکمل ہو جاتی تو اپنی زمین کی طرف واپس لوٹ جاتے۔ جب لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف خروج کیا اور شورش برپا کی تو سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: ”انہیں قتل نہ کرو بلکہ ان سے رجوع اور اصلاح کا مطالبہ کرو، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! جس کسی امت نے بھی اپنے نبی کو قتل کیا تو اللہ تعالیٰ ان کے باہمی معاملات کی اس وقت تک اصلاح نہیں فرماتا جب تک کہ وہ ستر ہزار جانوں کا خون نہ بہا دیں، اور جس امت نے بھی اپنے خلیفہ کو قتل کیا تو اللہ ان کے مابین اس وقت تک صلح و اصلاح نہیں فرماتا جب تک کہ وہ چالیس ہزار جانوں کا خون نہ بہا دیں، اور کوئی امت ہرگز اس وقت تک تباہ نہیں ہوتی جب تک کہ وہ قرآن کو حاکمِ وقت کے مقابلے میں (غلط تاویلات کے لیے) نہ اٹھا لیں۔“ پھر انہوں نے دوبارہ ان سے تاکیداً فرمایا: ”انہیں قتل نہ کرو بلکہ ان سے رجوع کا مطالبہ کرو۔“ راوی کہتے ہیں کہ ان ظالموں نے ان کی بات پر کوئی توجہ نہ دی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔
راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے راستے میں بیٹھ گئے یہاں تک کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ وہاں پہنچے تو انہوں نے آپ سے دریافت کیا: ”آپ کا ارادہ کہاں جانے کا ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عراق کا۔“ انہوں نے عرض کیا: ”آپ عراق تشریف نہ لے جائیں بلکہ رسول اللہ ﷺ کے منبر (مدینہ منورہ) ہی کو لازم پکڑیں اور وہیں مقیم رہیں، میں نہیں جانتا کہ یہ عمل آپ کو (فتنوں سے) نجات دلائے گا یا نہیں، لیکن اللہ کی قسم! اگر آپ نے اسے چھوڑ دیا تو پھر آپ اسے کبھی دوبارہ (دارالخلافہ کے طور پر) نہ دیکھ پائیں گے۔“ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گرد موجود لوگوں نے کہا: ”ہمیں چھوڑئیے کہ ہم اسے قتل کر دیں (جو ایسی باتیں کر رہا ہے)۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رہنے دو، بے شک عبداللہ بن سلام ہم میں سے ایک صالح اور نیک مرد ہیں۔“
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ان کی زمین کے متصل ایک زمین خریدنے کی اجازت مانگی تھی، تو انہوں نے اس واقعے کے بعد مجھ سے فرمایا: ”یہ چالیس سال کا آغاز ہے (جو فتنوں کا دور ہے)، اس کے بعد عنقریب صلح و امن ہو جائے گا، لہٰذا اب تم وہ زمین خرید لو۔“ سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے حمید سے پوچھا: ”وہ قرآن کو حاکم کے خلاف کیسے اٹھاتے ہیں؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”کیا تم نے خوارج کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح قرآن کی (غلط) تاویل کر کے اسے حکمران کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔“