المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ بيان بَدْءِ الفتنة باب: فتنے کے آغاز کا بیان۔
وَقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ ، عَنِ الْمُجَالِدِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : سَتَدُورُ رَحَى الْإِسْلَامِ بَعْدَ خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ سَنَةً ، فَإِنِ اصْطَلَحُوا بَيْنَهُمْ عَلَى غَيْرِ قِتَالٍ أَكَلُوا الدُّنْيَا سَبْعِينَ عَامًا .
قُلْتُ : رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو دَاوُدَ مِنْ حَدِيثِ الْبَرَاءِ بْنِ نَاجِيَةَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِلَفْظِ : فَإِنْ يَهْلِكُوا فَسَبِيلُ مَنْ هَلَكَ ، وَإِنْ يَقُمْ لَهُمْ دِينُهُمْ يَقُمْ لَهُمْ سَبْعِينَ عَامًا .
وَلَمْ يَذْكُرْ : فَإِنِ اصْطَلَحُوا بَيْنَهُمْ عَلَى غَيْرِ قِتَالٍ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ارشاد فرمایا: ”اسلام کی چکی پینتیس سال کے بعد گردش کرے گی، پس اگر لوگ آپس میں قتال و خونریزی کے بغیر صلح و آشتی پر متفق ہو گئے تو وہ ستر سال تک دنیا کی نعمتوں و آسائشوں سے فیضیاب ہوں گے۔“
میں کہتا ہوں: اسے امام احمد اور امام ابوداؤد نے براء بن ناجیہ کی حدیث سے، انہوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے: ”پھر اگر وہ ہلاک ہو گئے تو ان کا انجام وہی ہوگا جو ان سے پہلے ہلاک ہونے والوں کا تھا، اور اگر ان کا دین ان کے لیے قائم رہا تو وہ ستر برس تک برقرار رہے گا۔“
اور انہوں نے یہ الفاظ ذکر نہیں کیے: ”پس اگر وہ آپس میں لڑائی جھگڑے کے بغیر صلح کر لیں۔“