المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب الفتن— فتنوں کا بیان۔
بَابُ بيان بَدْءِ الفتنة باب: فتنے کے آغاز کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَنْ صَدَقَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ ذَكَرَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : بَعْدَ الثَّلَاثِينَ اصْرِفْ وَجْهَكَ حَيْثُ شِئْتَ ، فَإِنَّكَ لَنْ تَصْرِفَهُ إِلَّا إِلَى عَجْزٍ أَوْ فُجُورٍ .
قُلْتُ : فِيهِ انْقِطَاعٌ مَعَ ضَعْفِ لَيْثٍ .
4334 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ..فَذَكَرَ حَدِيثَ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ الَّذِي تَقَدَّمَ فِي صَلَاةِ الضُّحَى .سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کا تذکرہ فرمایا اور آپ ﷺ کی مدح و ثنا بیان کی، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ذکرِ خیر کیا اور ان کی تعریف فرمائی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا اور ان کی بھی تعریف و توصیف بیان کی، پھر فرمایا: ”تیس (سال) کے بعد تم اپنا رخ جس طرف چاہو موڑ لو، کیونکہ تم اپنا رخ جس جانب بھی پھیرو گے تو وہاں تمہیں بجز عجز و نااہلی یا فسق و فجور کے کچھ نہ ملے گا۔“
میں کہتا ہوں کہ اس روایت کی سند میں انقطاع پایا جاتا ہے اور لیث بن ابی سلیم نامی راوی ضعیف ہے۔ نیز امام ابوبکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ نے کہا کہ ہمیں ابن نمیر نے محمد بن اسحاق کے واسطے سے حدیث بیان کی، پھر انہوں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی وہ روایت ذکر کی جو پہلے ”صلاۃ الضحیٰ“ (نمازِ چاشت) کے باب میں گزر چکی ہے۔