المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ دَفْنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کی تدفین کا بیان۔
قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا عَامِرٌ وَهُوَ الشَّعْبِيُّ ، قَالَ : قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ : إِنِّي لَآخِرُ النَّاسِ عَهْدًا بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَإِنَّا حَفَرْنَا لَهُ وَلَحَدْنَا ، فَلَمَّا دَفَنُوهُ وَخَرَجُوا أَلْقَيْتُ الْفَأْسَ فِي الْقَبْرِ ، فَقُلْتُ : الْفَأْسَ ، الْفَأْسَ ، فَدَخَلْتُ فَأَخَذْتُهُ ، وَمَسَحْتُ يَدِي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
قُلْتُ : مُجَالِدٌ ضَعِيفٌ .
4332 \ 2 - وَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا مُجَالِدٌ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ يُحَدِّثُنَا هَاهُنَا بِالْكُوفَةِ ، فَقَالَ : أَنَا آخِرُ النَّاسِ عَهْدًا بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَمَّا خَرَجَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ مِنَ الْقَبْرِ وَدُفِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْقَيْتُ خَاتَمِي ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا الْحَسَنِ ، خَاتَمِي ، قَالَ : انْزِلْ فَخُذْ خَاتَمَكَ ، فَنَزَلْتُ وَأَخَذْتُ خَاتَمِي ، وَوَضَعْتُهُ عَلَى الْكَفَنِ ثُمَّ خَرَجْتُ .
4332 \ 3 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ بِهَذَا .سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”بلاشبہ میں وہ آخری شخص ہوں جس کا نبی کریم ﷺ کے ساتھ سب سے آخری وقت کا ساتھ رہا، اور یقیناً ہم نے آپ ﷺ کے لیے قبر مبارک کھودی اور بغلی لحد تیار کی، پھر جب لوگوں نے آپ ﷺ کو دفن کر دیا اور وہ باہر نکلے تو میں نے (جان بوجھ کر) اپنا کدال قبر میں ڈال دیا اور پکارا: میرا کدال! میرا کدال! چنانچہ میں (اس بہانے) قبر میں داخل ہوا، اسے اٹھایا اور اپنا ہاتھ نبی کریم ﷺ کے جسدِ اطہر پر پھیرا۔“
میں کہتا ہوں کہ اس کا راوی مجالد ضعیف ہے۔ امام احمد بن منیع کی روایت کے مطابق سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کوفہ میں ہمیں یہ حدیث سناتے ہوئے فرماتے تھے: ”میں لوگوں میں سب سے آخری شخص ہوں جس نے رسول اللہ ﷺ کا قرب حاصل کیا۔“ انہوں نے بیان کیا کہ ”جب سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ قبر مبارک سے باہر تشریف لائے اور نبی کریم ﷺ کو سپردِ خاک کیا جا چکا تو میں نے اپنی انگوٹھی اندر پھینک دی اور عرض کیا: اے ابو الحسن! میری انگوٹھی (اندر رہ گئی ہے)۔ انہوں نے فرمایا: تم نیچے اترو اور اپنی انگوٹھی اٹھا لو۔ چنانچہ میں نیچے اترا، اپنی انگوٹھی اٹھائی، اسے کفنِ مبارک پر مس کیا اور پھر باہر آ گیا۔“
ابو یعلیٰ نے بھی اپنی سند کے ساتھ اسے اسی طرح روایت کیا ہے۔