المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کو غسل دینے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ الْعَدَنِيُّ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ يَقُولُ : سَمِعُوا صَوْتًا عِنْدَ وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَسْرَعَ الْعَبَّاسُ ، فَأَصَابَ رِجْلُهُ ظَهْرَ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا أُمَّتَاهُ ، يَا أُمَّتَاهُ ، يَا أُمَّتَاهُ ، لَا تَلُومِينَنِي هَذِهِ ، فَأَدْرَكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : الرَّفِيقَ الْأَعْلَى ، قَالَ الْعَبَّاسُ : فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ ، فَلَمَّا قَضَى عَلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَوْتَ غَسَّلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَالْفَضْلُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، وَكَانَ الْعَبَّاسُ يُنَاوِلُهُمُ الْمَاءَ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ ، فَقَالَ : مَا يَمْنَعُنِي أَنْ أُغَسِّلَهُ إِلَّا أَنَّا كُنَّا صِبْيَانًا نَحْمِلُ الْحِجَارَةَ فِي الْمَسْجِدِ ... الْحَدِيثَ .
فِيهِ انْقِطَاعٌ .
4328 \ 2 - أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنِي أَبِي نَحْوَهُ .عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی وفات کے وقت لوگوں نے ایک آواز سنی تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ تیزی سے لپکے، اس دوران ان کا پاؤں نبی کریم ﷺ کی ازواجِ مطہرات میں سے کسی خاتون کی پشت سے مس ہو گیا تو انہوں نے (معذرت کے طور پر) عرض کیا: ”اے میری ماں! اے میری ماں! اے میری ماں! اس (خطا) پر مجھے ملامت نہ کیجیے گا“، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے پایا: «الرَّفِيقَ الْأَعْلَى» ”بلند ترین رفیق (یعنی اللہ تعالیٰ کی معیت)“۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں جان گیا کہ آپ ﷺ کو (دنیا میں رہنے یا اپنے رب سے ملنے کے درمیان) اختیار دے دیا گیا ہے“۔ چنانچہ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کی وفات کا فیصلہ فرما دیا تو سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ ﷺ کو غسل دیا، جبکہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ پردے کے پیچھے سے انہیں پانی فراہم کر رہے تھے، انہوں نے فرمایا: ”مجھے آپ ﷺ کو غسل دینے (میں براہِ راست شریک ہونے) سے کوئی چیز مانع نہیں تھی سوائے اس کے کہ ہم لڑکے تھے اور مسجد کی تعمیر کے وقت پتھر اٹھایا کرتے تھے...“ (مکمل حدیث)
اس روایت کی سند میں انقطاع (ٹوٹاؤ) پایا جاتا ہے۔ نیز ابراہیم بن حکم بن ابان نے اپنے والد سے اسی کی مانند روایت کیا ہے۔