المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ وفاة سيدنا رسول اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: نبی کریم ﷺ کی وفات کا بیان۔
حدیث نمبر: 4327
وَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ فِي زِيَادَاتِ الزُّهْدِ : حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ حَتَّى خَتَمَ السُّورَةَ ، نُعِيَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسُهُ حِينَ أُنْزِلَتْ ، فَأَخَذَ فِي أَشَدِّ مَا كَانَ قَطُّ اجْتِهَادًا فِي أَمْرِ الْآخِرَةِ .ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: ”جب سورہ مبارکہ ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ [سورة النصر: 1] مکمل نازل ہوئی، تو اس کے نزول کے وقت ہی رسول اللہ ﷺ کو آپ ﷺ کے وصال کی خبر دے دی گئی، پس اس کے بعد سے آپ ﷺ نے آخرت کے معاملات کی تیاری اور اس کے لیے سعی و کوشش میں اس قدر شدت اختیار فرما لی کہ اس سے پہلے آپ ﷺ کو کبھی ایسی بے مثال اور انتہا درجے کی جدوجہد کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا تھا۔“
امام عبداللہ بن احمد بن حنبل نے اسے کتاب الزہد کے اضافات میں روایت کیا ہے۔