المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ بعث عمرو بن أمية الضمري باب: عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کو روانہ کرنے کا بیان۔
قَالَ إِسْحَاقُ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي بَعْضُ آلِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ عَنْ أَعْمَامِهِ وَأَهْلِهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَعَثَ مَعِي رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : ائْتِيَا أَبَا سُفْيَانَ فَاقْتُلَاهُ بِفِنَائِهِ ، فَنَذِرُوا بِنَا ، فَصَعِدْنَا فِي الْجَبَلِ ، فَجَاءَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فَقَتَلْتُهُ ، ثُمَّ دَخَلْتُ غَارًا ، فَجَاءَنَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي دِيلِ بْنِ بَكْرٍ ، فَدَخَلَ مَعَنَا ، فَقُلْتُ : مَنْ أَنْتَ ؟ فَقَالَ : مِنْ بَنِي بَكْرٍ ، فَقُلْتُ : وَأَنَا مِنْ بَنِي بَكْرٍ ، فَاضْطَجَعَ وَرَفَعَ عَقِيرَتَهُ يَتَغَنَّى ، فَقَالَ :
لَسْتُ بِمُسْلِمٍ مَا دُمْتُ حَيًّا وَلَا دَانٍ بِدِينِ الْمُسْلِمِينَ فَقُلْتُ : نَمْ فَسَتَعْلَمُ ، فَنَامَ فَقَتَلْتُهُ ، ثُمَّ خَرَجْتُ فَوَجَدْتُ رَجُلَيْنِ بَعَثَتْهُمَا قُرَيْشٌ ، فَقُلْتُ لَهُمَا : اسْتَأْسِرَا ، فَأَبَى أَحَدُهُمَا فَقَتَلْتُهُ ، وَاسْتَأْسَرَ الْآخَرُ ، فَقَدِمْتُ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
4285 \ 2 - أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي بَعْضُ آلِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ ، عَنْ أَعْمَامِهِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : بَعَثَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَبَعَثَ مَعِي رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ بَعْدَمَا قُتِلَ خُبَيْبٌ وَأَصْحَابُهُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ ، فَقَالَ : اقْتُلَا أَبَا سُفْيَانَ بِفِنَائِهِ ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَصَاحِبِي حَتَّى قَدِمْنَا بَطْنَ يَأْجِجَ مِنْ قِبَلِ الشِّعْبِ ، قَالَ : وَكَانَ صَاحِبِي رَجُلًا سُهَيْلًا ، لَيْسَتْ لَهُ رِحْلَةٌ ، فَقُلْتُ لَهُ : إِنْ خِفْتَ شَيْئًا فَانْطَلِقْ إِلَى بَعِيرِكَ فَارْكَبْهُ حَتَّى تَلْحَقَ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ لِي صَاحِبِي : هَلْ لَكَ أَنْ تَطُوفَ بِالْبَيْتِ ، فَقُلْتُ : أَنَا أَعْلَمُ بِأَهْلِ مَكَّةَ ، إِنَّهُمْ إِذَا أَظْلَمُوا رَشُّوا أَفْنِيَتَهُمْ فَجَلَسُوا فِيهَا ، وَأَنَا أَعْرَفُ فِيهِمْ مِنَ الْفَرَسِ الْأَبْلَقِ ، فَلَمْ يَزَلْ عَنِّي حَتَّى طُفْنَا سَبْعًا ، ثُمَّ خَرَجْنَا حَتَّى مَرَرْنَا بِمَجَالِسِهِمْ ، فَقَالُوا : هَذَا عَمْرٌو ، وَاللهِ مَا جَاءَ بِهِ خَيْرٌ ، وَكَانَ عَمْرٌو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا فَاتِكًا يُسَمَّى الْخَلِيعَ ، قَالَ : فَشَدَدْنَا حَتَّى صَعِدْنَا الْجَبَلَ ، فَدَخَلْتُ غَارًا ، فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ مَالِكٍ ، أَوْ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مَالِكٍ التَّيْمِيُّ يَخْتَلِي لِفَرَسٍ ، فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْغَارِ ، قُلْتُ لِصَاحِبِي : وَاللهِ لَئِنْ رَآنَا هَذَا لَيَدُلَّنَّ عَلَيْنَا ، قَالَ : فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ فَوَجَأْتُهُ بِالْخِنْجَرِ تَحْتَ ثَدْيِهِ ، فَأَعْطَيْتُهُ الْقَاضِيَةَ ، فَصَرَخَ صَرْخَةً أَسْمَعَهَا أَهْلَ مَكَّةَ ، قَالَ : فَجَاؤُوا ، وَرَجَعْتُ إِلَى مَكَانِي فَدَخَلْتُ فِيهِ ، فَجَاءَ أَهْلُ مَكَّةَ فَوَجَدُوا بِهِ رَمَقًا ، فَقَالُوا : مَنْ طَعَنَكَ ؟ فَقَالَ : عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ ، ثُمَّ مَاتَ فَمَا أَدْرَكُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَاعُوا أَنْ يُخْبِرَهُمْ بِمَكَانِنَا ، قَالَ : ثُمَّ خَرَجْنَا ، فَإِذَا نَحْنُ بِخُبَيْبٍ عَلَى خَشَبَتِهِ ، فَقَالَ لِي صَاحِبِي : هَلْ لَكَ أَنْ تُنْزِلَ خُبَيْبًا عَنْ خَشَبَتِهِ فَتَدْفِنَهُ ، فَقُلْتُ : نَعَمْ ، فَتَنَحَّ عَنِّي ، فَإِنْ أَبْطَأْتُ عَلَيْكَ فَخُذِ الطَّرِيقَ ، فَعَمَدْتُ لِخُبَيْبٍ فَأَنْزَلْتُهُ عَنْ خَشَبَتِهِ ، فَحَمَلْتُهُ عَلَى ظَهْرِي فَمَا مَشَيْتُ بِهِ عِشْرِينَ ذِرَاعًا حَتَّى بَدَرَنِي الْحَرَسُ ، وَكَانُوا قَدْ وَضَعُوا عَلَيْهِ الْحَرَسَ ، قَالَ : فَطَرَحْتُهُ فَمَا أَنْسَى وَجْبَتَهُ بِالْأَرْضِ حِينَ طَرَحْتُهُ ، ثُمَّ أَخَذْتُ عَلَى الصَّفْرَاوَاتِ حَتَّى انْصَبَبْتُ عَلَى الْعَلِيلِ عَلِيلِ ضَجْنَانَ ، وَهُمْ يَتْبَعُونَنِي ، فَدَخَلْتُ غَارًا ، فَذَكَرَ قِصَّةَ الَّذِي قَتَلَهُ ، ثُمَّ خَرَجْتُ مِنَ الْغَارِ عَلَى بِلَادٍ أَنَا بِهَا عَالِمٌ ، ثُمَّ أَخَذْتُ عَلَى رُكُوبَةٍ ، فَرَأَيْتُ رَجُلَيْنِ بَعَثَتْهُمَا قُرَيْشٌ يَتَجَسَّسَانِ الْأَخْبَارَ ، فَقُلْتُ لِأَحَدِهِمَا : اسْتَأْسِرْ فَأَبَى فَرَمَيْتُهُ فَقَتَلْتُهُ ، وَاسْتَأْسَرَ الْآخَرُ ، فَقَدِمْتُ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
4285 \ 3 - وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ وَحْدَهُ عَيْنًا إِلَى قُرَيْشٍ ، فَجِئْتُ إِلَى خَشَبَةِ خُبَيْبٍ ، وَأَنَا أَتَخَوَّفُ الْعُيُونَ ، فَرَقِيتُ فِيهَا فَحَلَّيْتُ خُبَيْبًا فَوَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ ، فَانْتَبَذْتُ غَيْرَ بَعِيدٍ ، وَالْتَفَتُّ فَلَمْ أَرَ خُبَيْبًا ، وَلَكَأَنَّمَا ابْتَلَعَتْهُ الْأَرْضُ ، قَالَ : فَمَا رُئِيَ خُبَيْبٌ رِمَّةً حَتَّى السَّاعَةِ .
4285 \ 4 - وَقَدْ كَانَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، قَالَ : عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ .سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور میرے ساتھ ایک انصاری صحابی کو مکہ کی طرف روانہ فرمایا اور حکم دیا کہ ”تم دونوں ابوسفیان بن حرب کے پاس جاؤ اور اسے اس کے گھر کے صحن میں قتل کر دو۔“ ہمیں مکہ والوں نے بھانپ لیا، چنانچہ ہم ایک پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گئے۔ وہاں بنو تمیم کا ایک شخص ہمارے پاس پہنچا جسے میں نے قتل کر دیا، پھر میں ایک غار میں جا چھپا۔ وہاں بنو دیل بن بکر کا ایک آدمی آیا اور ہمارے ساتھ غار میں داخل ہو گیا۔ میں نے اس سے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ اس نے کہا: ”بنو بکر سے ہوں۔“ میں نے کہا: ”میں بھی بنو بکر سے ہی ہوں۔“ وہ وہیں لیٹ گیا اور اپنی آواز بلند کر کے یہ شعر گنگنانے لگا: «لَسْتُ بِمُسْلِمٍ مَا دُمْتُ حَيًّا وَلَا دَانٍ بِدِينِ الْمُسْلِمِينَ» ”میں جب تک زندہ ہوں ہرگز مسلمان نہیں ہوں گا اور نہ ہی مسلمانوں کے دین کی پیروی کروں گا۔“ میں نے (دل میں) کہا: ”سو جاؤ، ابھی تمہیں حقیقت کا پتہ چل جائے گا۔“ جب وہ سو گیا تو میں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر میں وہاں سے نکلا تو مجھے قریش کے دو آدمی ملے جنہیں انہوں نے خبریں لانے کے لیے بھیجا تھا، میں نے ان سے کہا: ”تم خود کو میرے حوالے کر دو اور قیدی بن جاؤ۔“ ان میں سے ایک نے انکار کیا تو میں نے اسے قتل کر دیا، جبکہ دوسرا قیدی بننے پر راضی ہو گیا اور میں اسے لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا خبیب اور ان کے ساتھیوں رضی اللہ عنہم کی شہادت کے بعد مجھے اور ایک انصاری صحابی کو ابوسفیان کے قتل کے مشن پر بھیجا۔ ہم مکہ کے قریب بطنِ یاجج پہنچے، میرا ساتھی بہت نرم دل اور اسفار کا زیادہ تجربہ کار نہ تھا۔ اس نے طوافِ کعبہ کی خواہش ظاہر کی تو میں نے اسے خبردار کیا کہ اہل مکہ مجھے خوب پہچانتے ہیں، لیکن اس کے اصرار پر ہم نے طواف کیا۔ قریشیوں نے مجھے دیکھ کر پہچان لیا اور کہا: ”یہ عمرو ہے، اللہ کی قسم! یہ کسی بھلائی کے ارادے سے نہیں آیا۔“ (سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نہایت نڈر اور جنگی چالوں میں ماہر تھے)۔ ہم وہاں سے تیزی سے نکل کر پہاڑ پر چڑھ گئے اور ایک غار میں چھپ گئے، وہاں بنو تیم کا ایک شخص گھوڑے کے لیے چارہ کاٹنے آیا، مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ ہمیں دیکھ کر دوسروں کو بتا دے گا تو میں نے خنجر سے اس کے سینے پر وار کر کے اسے ہلاک کر دیا۔ اس کی چیخ سن کر اہل مکہ دوڑے آئے لیکن وہ مرنے سے پہلے صرف میرا نام بتا سکا اور ہماری صحیح جگہ نہ بتا پایا۔ پھر جب ہم وہاں سے نکلے تو ہمیں سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ سولی پر لٹکے ہوئے ملے، میرے ساتھی کے کہنے پر میں نے انہیں تختہ دار سے اتارا اور اپنی پیٹھ پر لاد کر ابھی بیس ہاتھ ہی چلا تھا کہ پہرے داروں نے مجھے دیکھ لیا، میں نے انہیں زمین پر ڈال دیا اور وہاں سے نکل گیا۔ ایک اور سند میں ہے کہ عمرو رضی اللہ عنہ اکیلے جاسوسی کے لیے گئے تھے، انہوں نے جب سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو سولی سے اتارا تو وہ زمین پر گرے، عمرو رضی اللہ عنہ ایک لمحے کے لیے مڑے تو خبیب رضی اللہ عنہ وہاں سے غائب ہو چکے تھے، گویا زمین انہیں نگل گئی ہو، اور آج تک ان کے جسم کا کوئی نشان نہیں ملا۔
امام اسحاق بن راہویہ، وہب بن جریر اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے اس واقعے کو مختلف اسناد سے بیان کیا ہے جن میں محمد بن اسحاق اور زہری جیسے کبار ائمہ شامل ہیں، یہ واقعہ سیرتِ نبوی کے اہم واقعات میں سے ایک ہے جس میں سیدنا عمرو بن امیہ کی شجاعت اور سیدنا خبیب کی کرامت کا ذکر ہے۔