المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ كتاب النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قيصر باب: نبی کریم ﷺ کے قیصر کو خط لکھنے کا بیان۔
قَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ ، رَفَعَهُ قَالَ : كَتَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى هِرَقْلَ صَاحِبِ الرُّومِ : مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللهِ إِلَى هِرَقْلَ صَاحِبِ الرُّومِ ، إِنِّي أَدْعُوكَ إِلَى الْإِسْلَامِ ، فَإِنْ أَسْلَمْتَ فَلَكَ مَا لِلْمُسْلِمِينَ ، وَعَلَيْكَ مَا عَلَيْهِمْ ، فَإِنْ لَمْ تَدْخُلْ فِي الْإِسْلَامِ فَأَعْطِ الْجِزْيَةَ ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى يَقُولُ : قَاتِلُوا الَّذِينَ لا يُؤْمِنُونَ بِاللهِ الْآيَةَ ، وَإِلَّا فَلَا تَحُلْ بَيْنَ الْفَلَّاحِينَ وَبَيْنَ الْإِسْلَامِ أَنْ يَدْخُلُوا فِيهِ أَوْ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ .عبداللہ بن شداد رحمہ اللہ سے مرفوعاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے روم کے سربراہ ہرقل کی طرف خط ارسال فرمایا جس میں تحریر تھا: ”اللہ کے رسول محمد (ﷺ) کی جانب سے روم کے حاکم ہرقل کے نام؛ میں تمہیں دینِ اسلام کی دعوت دیتا ہوں، پس اگر تم اسلام لے آئے تو تمہیں وہی حقوق حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہیں اور تم پر وہی فرائض و ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو مسلمانوں پر ہیں، لیکن اگر تم اسلام میں داخل نہیں ہونا چاہتے تو پھر جزیہ ادا کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ﴾ [سورة التوبة: 29]، اور اگر تم یہ بھی قبول نہ کرو تو پھر کسانوں یعنی عام رعایا اور اسلام کے درمیان حائل نہ ہو کہ وہ اسلام قبول کر لیں یا جزیہ ادا کر دیں۔“
تخریج: اسے امام حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند (بغیۃ الباحث: 647) میں روایت کیا ہے، یہ روایت مرسل ہے کیونکہ عبداللہ بن شداد تابعی ہیں اور انہوں نے اسے براہِ راست نبی کریم ﷺ سے نقل کیا ہے۔