❮
❯
حدیث نمبر: 426
قَالَ إِسْحَاقُ : أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ بَعْضِ الْعُلَمَاءِ قَالَ : " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ ، فَتَدَافَعَ الْقَوْمُ الْإِمَامَةَ ، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ هَذَا لِهَذَا ، وَهَذَا لِهَذَا : تَقَدَّمْ ، حَتَّى خُسِفَ بِهِمْ " .
ترجمہ

اسحاق رحمہ اللہ، عبد الرزاق رحمہ اللہ سے، وہ اپنے والد سے اور وہ بعض اہل علم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا: ”نماز کی اقامت کہی گئی تو لوگ امامت کے معاملے میں ایک دوسرے کو آگے دھکیلنے لگے، پس مسلسل ایک شخص دوسرے سے اور دوسرا پہلے سے یہی کہتا رہا کہ: ”تم آگے بڑھو“، یہاں تک کہ (اسی تکرار و تاخیر کے عالم میں) وہ سب کے سب زمین میں دھنسا دیے گئے۔“
اس اثر کو امام عبد الرزاق نے اپنی ’مصنف‘ میں روایت کیا ہے، جس میں نماز کی امامت میں بلاوجہ پس و پیش کرنے اور تاخیر کرنے پر عبرت ناک الہیٰ گرفت اور وعید کا تذکرہ موجود ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب الصلاة / حدیث: 426
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف. »
«أورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 226، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 1880»