❮
❯
حدیث نمبر: 4254
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ ، إِذْ تَبَسَّمَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاتِهِ ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللهِ ، رَأَيْنَاكَ تَبَسَّمْتَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَرَّ بِي مِيكَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَعَلَى جَنَاحِهِ أَثَرُ غُبَارٍ ، وَهُوَ رَاجِعٌ مِنْ طَلَبِ الْقَوْمِ ، فَضَحِكَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَيْهِ .
ترجمہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان کیا: ہم غزوۂ بدر کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کر رہے تھے کہ اچانک نبی کریم ﷺ اپنی نماز کے دوران ہی تبسم فرما گئے۔ پس جب آپ ﷺ نے نماز مکمل کر لی تو ہم نے عرض کی: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے دیکھا کہ آپ نے نماز میں تبسم فرمایا ہے؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”درحقیقت میرے پاس سے حضرت میکائیل علیہ السلام گزرے جبکہ ان کے پروں پر گرد و غبار کے آثار تھے، وہ دشمن کی تلاش اور پیچھا کرنے کے بعد واپس لوٹ رہے تھے، انہوں نے مجھے دیکھ کر تبسم فرمایا تو میں نے بھی انہیں دیکھ کر تبسم کیا۔“
اس حدیث کی سند میں وازع بن نافع راوی ضعیف اور متروک الحدیث ہے، جس کی وجہ سے یہ روایت علمی اعتبار سے سخت ضعیف ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4254
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده ضعيف جدًا. »
«أخرجه المعجم الأوسط للطبراني برقم: 7199، وأخرجه مجمع الزوائد ومنبع الفوائد برقم: 9991، وأخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 1433/2، 4552»