المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ غزوة بدر باب: غزوۂ بدر کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي سَمِينَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : كُنْتُ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ أَمْتَحُ أَوْ أَمِيحُ مِنْهُ ، فَجَاءَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، ثُمَّ جَاءَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ لَمْ أَرَ رِيحًا أَشَدَّ مِنْهَا إِلَّا الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا ، ثُمَّ جَاءَتْ رِيحٌ شَدِيدَةٌ ، فَكَانَتِ الْأُولَى مِيكَائِيلَ فِي أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالثَّانِيَةُ إِسْرَافِيلَ فِي أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ عَنْ يَسَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالثَّالِثَةُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي أَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ يَمِينِهِ ، وَكُنْتُ عَنْ يَسَارِهِ ، فَلَمَّا هَزَمَ اللهُ تَعَالَى الْكُفَّارَ حَمَلَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى فَرَسٍ ، فَلَمَّا اسْتَوَيْتُ عَلَيْهَا حَمَلَنِي فَصِرْتُ عَلَى عُنُقِهِ ، فَدَعَوْتُ اللهَ تَعَالَى : فَثَبَّتَنِي عَلَيْهِ ، فَطَعَنْتُ بِرُمْحِي حَتَّى بَلَغَ الدَّمُ إِبْطِي .سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیان فرمایا: ”میں غزوہ بدر کے موقع پر ایک کنویں پر موجود تھا اور اس سے پانی نکال رہا تھا، اسی دوران ایک نہایت تند و تیز ہوا چلی، پھر ایک اور شدید ہوا آئی جس کے متعلق میرا گمان ہے کہ میں نے اس سے زیادہ سخت ہوا کبھی نہیں دیکھی تھی سوائے اس پہلی ہوا کے جو اس سے پہلے چلی تھی، پھر تیسری مرتبہ ایک اور نہایت زوردار ہوا چلی؛ پس ان میں سے پہلی ہوا میکائیل علیہ السلام تھے جو ایک ہزار فرشتوں کے ہمراہ نبی کریم ﷺ کی دائیں جانب تشریف لائے تھے، دوسری ہوا اسرافیل علیہ السلام کی صورت میں تھی جو ایک ہزار فرشتوں کے ساتھ نبی کریم ﷺ کی بائیں جانب آئے تھے، اور تیسری ہوا جبرائیل علیہ السلام کی تھی جو ایک ہزار فرشتوں کے لشکر کے ساتھ تشریف لائے تھے۔ اس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی دائیں جانب تھے اور میں آپ ﷺ کی بائیں طرف موجود تھا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست فاش سے دوچار کر دیا تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک گھوڑے پر سوار کیا، چنانچہ جب میں اس پر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا تو گھوڑے نے مجھے جھٹکا دیا یہاں تک کہ میں اچھل کر اس کی گردن پر جا پہنچا، پس میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے مجھے اس پر ثابت قدمی عطا فرمائی، پھر میں نے اپنے نیزے سے دشمنوں پر اس کثرت سے وار کیے کہ خون میری بغل تک پہنچ گیا۔“
[أخرجه البزار في مسنده: 649، وأبو يعلى: 549، والحاكم في المستدرك: 4487] اس حدیث کی سند میں موسیٰ بن یعقوب الزمعی اور ابوالحویرث (عبد الرحمن بن عثمان) متکلم فیہ راوی ہیں، جس کی بنا پر اس روایت کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے۔