❮
❯
حدیث نمبر: 4249
أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ إِسْحَاقَ يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : رَأَيْتُ قَبْلَ هَزِيمَةِ الْقَوْمِ وَالنَّاسُ يَقْتَتِلُونَ مِثْلَ الْبِجَادِ الْأَسْوَدِ أَقْبَلَ مِنَ السَّمَاءِ مِثْلَ النَّمْلِ الْأَسْوَدِ ، فَلَمْ أَشْكُكْ أَنَّهَا الْمَلَائِكَةُ ، فَلَمْ يَكُنْ إِلَّا هَزِيمَةُ الْقَوْمِ .
إِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِنْ كَانَ إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ سَمِعَهُ مِنْ جُبَيْرٍ .
ترجمہ

سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”مشرکین کی ہزیمت اور شکست سے قبل جب لوگ باہم مصروفِ قتال تھے، میں نے آسمان کی جانب سے ایک کالی چادر کی مانند کوئی چیز اترتی ہوئی دیکھی جو سیاہ چیونٹیوں کی طرح (کثرت میں) معلوم ہوتی تھی، پس مجھے اس میں کوئی شک و شبہ نہ رہا کہ وہ فرشتے ہی ہیں، اور پھر اس کے فوراً بعد ہی دشمن کو شکستِ فاش ہو گئی۔“
اس کی سند حسن ہے بشرطیکہ اسحاق بن یسار نے اسے سیدنا جبیر رضی اللہ عنہ سے براہِ راست سنا ہو۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4249
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :قال ابن حجر: إِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِنْ كَانَ إِسْحَاقُ بْنُ يَسَارٍ سَمِعَهُ مِنْ جُبَيْرٍ . »
«انفرد به المصنف من هذا الطريق»