❮
❯
حدیث نمبر: 4243
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِيَادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : لَمَّا انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مُسْتَخْفِيَيْنِ فِي الْغَارِ ، مَرَّا بِعَبْدٍ يَرْعَى غَنَمًا ، فَاسْتَسْقَا مِنَ اللَّبَنِ ، فَقَالَ : وَاللهِ مَا لِي شَاةٌ تُحْلَبُ ، غَيْرَ أَنَّ هَاهُنَا عَنَاقًا حَمَلَتْ أَوَانَ الشِّتَاءِ ، فَمَا بَقِيَ لَهَا لَبَنٌ وَقَدِ اهْتُجِنَتْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ائْتِنَا بِهَا ، فَدَعَا عَلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَرَكَةِ ثُمَّ حَلَبَ عُسًّا فَسَقَى أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، ثُمَّ حَلَبَ آخَرَ فَسَقَى الرَّاعِيَ ، ثُمَّ حَلَبَ فَشَرِبَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ الْعَبْدُ : بِاللهِ مَنْ أَنْتَ ؟ مَا رَأَيْتُ مِثْلَكَ قَطُّ ، قَالَ : وَتُرَاكَ إِنْ أَخْبَرْتُكَ تَكْتُمُ عَلَيَّ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَإِنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ قَالَ : أَنْتَ الَّذِي تَزْعُمُ قُرَيْشٌ أَنَّكَ صَابِئٌ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ ذَلِكَ ، قَالَ : فَإِنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ ، وَأَنَّ مَا جِئْتَ بِهِ حَقٌّ ، وَأَنَّهُ لَيْسَ يَفْعَلُ مَا فَعَلْتَهُ إِلَّا نَبِيٌّ ، ثُمَّ قَالَ : أَتَّبِعُكَ ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا ، حَتَّى تَسْمَعَ أَنَّا قَدْ ظَهَرْنَا ، فَإِذَا بَلَغَكَ ذَلِكَ فَاخْرُجْ ، فَتَبِعَهُ بَعْدَمَا خَرَجَ مِنَ الْغَارِ .
ترجمہ

سیدنا قیس بن نعمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ (ہجرت کے موقع پر) غار میں روپوش ہونے کے لیے روانہ ہوئے، تو ان کا گزر ایک غلام کے پاس سے ہوا جو بکریاں چرا رہا تھا، آپ ﷺ نے اس سے پینے کے لیے دودھ طلب فرمایا، تو اس نے عرض کیا: اللہ کی قسم! میرے پاس کوئی ایسی بکری نہیں ہے جس کا دودھ دوہا جا سکے، بجز اس کم عمر بکری کے جو موسمِ سرما کے آغاز میں حاملہ ہوئی تھی، مگر اب اس کا دودھ بالکل خشک ہو چکا ہے اور وہ لاغر ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے ہمارے پاس لے کر آؤ۔“ پھر رسول اللہ ﷺ نے اس پر ہاتھ پھیرا اور برکت کی دعا «اللهم بارك فيها» ”اے اللہ! اس میں برکت عطا فرما“ فرمائی اور ایک بڑے لکڑی کے پیالے میں اس کا دودھ دوہا، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پلایا، پھر دوبارہ دوہا اور اس چرواہے کو سیراب کیا، پھر مزید دوہا اور خود ﷺ نے نوش فرمایا، تو اس غلام نے حیرت سے پوچھا: اللہ کی قسم! آپ کون ہیں؟ میں نے آپ جیسا (صاحبِ برکت) شخص کبھی نہیں دیکھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر میں تمہیں بتا دوں تو کیا تم میرا راز پوشیدہ رکھو گے؟“ اس نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک میں محمد (ﷺ) ہوں اور اللہ کا رسول ہوں۔“ اس نے کہا: کیا آپ وہی ہیں جن کے بارے میں قریش دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ اپنا دین چھوڑ چکے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً وہ یہی کہتے ہیں،“ اس نے عرض کیا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور جو کچھ آپ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے، اور جو عمل آپ نے کیا ہے ایسا صرف ایک نبی ہی کر سکتا ہے، پھر اس نے عرض کیا: کیا میں ابھی آپ کے ساتھ چلوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابھی نہیں، یہاں تک کہ تم سن لو کہ ہم غالب آ چکے ہیں، پس جب تمہیں یہ خبر پہنچے تو (ہمارے پاس) نکل آنا،“ چنانچہ وہ غار کے واقعے کے بعد (مدینہ میں) آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔
امام ابو یعلیٰ نے اسے اپنی مسند میں روایت کیا ہے، اس کی سند کے راوی ثقہ ہیں اور یہ روایت دیگر شواہد کی بنا پر قوی ہے۔

حوالہ حدیث المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية / كتاب السيرة والمغازي / حدیث: 4243
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «حکم الحدیث المطالب العالیہ محققاً تنسیق د. سعد بن ناصر بن عبد العزيز الشَّثري- مکتبہ شاملہ :إسناده صحيح. »
«أخرجه إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة برقم: 6461»