المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ هجرة النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى المدينة باب: نبی کریم ﷺ کی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کا بیان۔
وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ مُطَيْرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ حَتَّى اسْتَقْبَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَوْرَتِهِ يَبُولُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللهِ ، أَلَيْسَ الرَّجُلُ يَرَانَا ؟ قَالَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَوْ رَآنَا لَمْ يَسْتَقْبِلْنَا بِعَوْرَتِهِ ، يَعْنِي : وَهُمَا فِي الْغَارِ .سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے والد (سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتی ہیں کہ (ہجرت کے کٹھن سفر کے دوران) مشرکین میں سے ایک شخص قریب آیا اور عین رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنا رخ کر کے پیشاب کرنے لگا، تو میں نے (انتہائی فکر مندی سے) عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا یہ شخص ہمیں دیکھ نہیں رہا؟“ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”اگر یہ ہمیں دیکھ پاتا تو ہرگز اپنا ستر کھول کر ہمارے سامنے رخ نہ کرتا۔“ یعنی یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب وہ دونوں غارِ ثور میں موجود تھے۔
اس حدیث کی تخریج امام ابو یعلیٰ نے اپنی مسند میں کی ہے، تاہم اس کی سند میں موسیٰ بن مطیر نامی راوی ضعیف اور متروک الحدیث ہے۔