المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية
كتاب السيرة والمغازي— سیرتِ نبوی اور غزوات کا بیان۔
بَابُ الإسراء باب: واقعۂ اسراء کا بیان۔
وَقَالَ الْحَارِثُ : حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِالْبُرَاقِ فَرَكِبَهُ خَلْفَ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ ، فَسَارَ بِهِمَا ، فَكَانَ إِذَا أَتَى عَلَى جَبَلٍ ارْتَفَعَتْ رِجْلَاهُ ، وَإِذَا هَبَطَ ارْتَفَعَتْ يَدَاهُ ، فَسَارَ بِنَا فِي أَرْضٍ غُمَّةٍ مُنْتِنَةٍ ، فَسَارَ بِنَا حَتَّى أَفْضَيْنَا إِلَى أَرْضٍ فَيْحَاءَ طَيِّبَةٍ ، فَقُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، إِنَّا كُنَّا نَسِيرُ فِي أَرْضٍ غُمَّةٍ مُنْتِنَةٍ حَتَّى أَفْضَيْنَا إِلَى أَرْضٍ فَيْحَاءَ طَيِّبَةٍ ، فَقَالَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ : تِلْكَ أَرْضُ النَّارِ ، وَهَذِهِ أَرْضُ الْجَنَّةِ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ عَلَى رَجُلٍ قَائِمٍ يُصَلِّي ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ مَعَكَ ؟ قَالَ : هَذَا أَخُوكَ مُحَمَّدٌ ، فَرَحَّبَ بِي ، وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ، وَقَالَ : سَلْ لِأُمَّتِكَ الْيُسْرَ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذَا أَخُوكَ عِيسَى ، قَالَ : ثُمَّ سِرْنَا فَسَمِعْنَا صَوْتًا وَزَئِيرًا ، فَأَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : قَالَ : هَذَا أَخُوكَ مُحَمَّدٌ ، قَالَ : فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ، وَقَالَ : سَلْ لِأُمَّتِكَ الْيُسْرَ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذَا أَخُوكَ مُوسَى ، قَالَ : قُلْتُ : عَلَى مَنْ تَذَمُّرُهُ وَصَوْتُهُ ؟ قَالَ : عَلَى رَبِّهِ ، قُلْتُ : عَلَى رَبِّهِ ؟! قَالَ : نَعَمْ ، إِنَّهُ يَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ وَحِدَّتَهُ ، ثُمَّ سِرْنَا فَرَأَيْنَا مَصَابِيحَ ، فَقُلْتُ : مَا هَذَا يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذِهِ شَجَرَةُ أَبِيكَ إِبْرَاهِيمَ ، أَتَدْنُو مِنْهُ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : فَدَنَوْنَا مِنْهُ ، فَرَحَّبَ وَدَعَا لِي بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى دَخَلْنَا بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، فَرَبَطَ الدَّابَّةَ بِالْحَلْقَةِ الَّتِي تَرْبِطُ بِهَا الْأَنْبِيَاءُ ، ثُمَّ دَخَلْتُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ ، فَنُشِرَتْ لِيَ الْأَنْبِيَاءُ مَنْ سَمَّى اللهُ تَعَالَى مِنْهُمْ وَمَنْ لَمْ يُسَمِّ ، فَصَلَّيْتُ بِهِمْ إِلَّا هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ : مُوسَى وَعِيسَى وَإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِمُ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ .
4236 \ 2 - وَقَالَ أَبُو يَعْلَى : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس براق لایا گیا تو میں اس پر حضرت جبریل علیہ السلام کے پیچھے سوار ہو گیا، پھر وہ براق ہم دونوں کو لے کر چل پڑا، اس کی کیفیت یہ تھی کہ جب وہ کسی پہاڑی پر چڑھتا تو اس کی پچھلی دونوں ٹانگیں بلند ہو جاتیں اور جب وہ نیچے اترتا تو اس کے دونوں اگلے ہاتھ بلند ہو جاتے۔ پھر وہ ہمیں لے کر ایک ایسی زمین سے گزرا جو نہایت تاریک، گھٹن زدہ اور بدبودار تھی، پھر وہ ہمیں لے کر چلتا رہا یہاں تک کہ ہم ایک نہایت وسیع، خوشبودار اور پاکیزہ زمین میں پہنچ گئے۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! ہم ایک ایسی زمین میں سفر کر رہے تھے جو تاریک اور بدبودار تھی یہاں تک کہ اب ہم اس کشادہ اور پاکیزہ زمین میں پہنچ گئے ہیں (یہ کیا ہے؟)، تو حضرت جبریل علیہ السلام نے بتایا: وہ دوزخ کی زمین تھی اور یہ جنت کی زمین ہے۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر میرا گزر ایک صاحب پر ہوا جو کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے پوچھا: اے جبریل! آپ کے ساتھ یہ کون ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ آپ کے بھائی محمد (ﷺ) ہیں، چنانچہ انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے برکت کی دعا فرمائی اور کہا: اپنی امت کے لیے آسانی کی درخواست کیجیے گا۔ میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا: یہ آپ کے بھائی عیسیٰ علیہ السلام ہیں۔“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”پھر ہم مزید آگے بڑھے تو ہم نے ایک گرجدار آواز سنی، پھر ہم ایک صاحب کے پاس پہنچے تو انہوں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کون ہیں؟ جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ آپ کے بھائی محمد (ﷺ) ہیں، انہوں نے بھی مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے برکت کی دعا کی اور کہا: اپنی امت کے لیے آسانی کا سوال کیجیے گا۔ میں نے دریافت کیا: اے جبریل! یہ کون ہیں؟ انہوں نے بتایا: یہ آپ کے بھائی موسیٰ علیہ السلام ہیں۔“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کن پر جلال کا اظہار کر رہے ہیں اور یہ کیسی آواز ہے؟ جبریل علیہ السلام نے جواب دیا: اپنے رب پر۔ میں نے (حیرت سے) کہا: اپنے رب پر؟! جبریل علیہ السلام نے کہا: جی ہاں، ان کا رب ان کے اس جلال اور تیزیِ طبع کو خوب جانتا ہے۔ پھر ہم آگے بڑھے تو ہمیں کچھ روشن چراغ نظر آئے، میں نے پوچھا: اے جبریل! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ آپ کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ٹھکانہ ہے، کیا آپ ان کے قریب جانا چاہتے ہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں، چنانچہ ہم ان کے قریب گئے تو انہوں نے مجھے خوش آمدید کہا اور میرے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر ہم آگے بڑھے یہاں تک کہ ہم بیت المقدس میں داخل ہوئے، تو جبریل علیہ السلام نے اس سواری کو اسی حلقے (کنڈے) کے ساتھ باندھا جس سے انبیاء کرام اپنی سواریاں باندھتے تھے۔ پھر میں بیت المقدس میں داخل ہوا تو میرے سامنے ان تمام انبیاء کی صفیں درست کی گئیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے (قرآن میں) فرمایا ہے اور جن کا ذکر نہیں فرمایا، پس میں نے ان سب کی امامت کرائی سوائے ان تین ہستیوں کے یعنی حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ اور حضرت ابراہیم علیہم الصلاة والسلام کے۔“
امام ابو یعلیٰ نے اس حدیث کو ہدبہ بن خالد اور شیبان بن فروخ کی سند سے، انہوں نے حماد بن سلمہ سے روایت کیا ہے۔